حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 83 of 104

حیاتِ ناصر — Page 83

حیات ناصر 83 عنایت کی۔یہ محض اس کریم کا فضل اور خاص فضل تھا اور اس کے یہ خاص فضل محدود نہیں بلکہ وہ خود بخود کمزور انسان پر اپنی رحمت کی بارشیں کرتا رہتا ہے۔کھٹکھٹانے والوں کی آواز اور مانگنے والوں کی دعا اور طالبوں کی طلب اور تڑپ کو سنتا ہے اور دیکھتا ہے اور پھر اتنا رحم اور فضل اس عاجز مخلوق پر کرتا ہے کہ اس کے اخلاق اور صفات کو دیکھ کر حیرت ہی آتی ہے اور انسان ضعیف البنیان مبہوت ہی رہ جاتا ہے وان تعدوا نعمة الله لا تحصوها ان الانسان لظلوم كفار رب السموات والارض وما بينهما فاعبده واصطبر لعبادته هل تعلم له سميا - محمد اسمعیل۔قادیان۔دارالامان حضرت میر صاحب کی ابدی زندگی حضرت میر صاحب کی وفات نے کچھ شک نہیں ان کو ہم سے جدا کر دیا اور وہ پھر اس دنیا میں نہیں آسکتے لیکن موت کے اس زبر دست ہاتھ نے ان کے جسم کے ساتھ ان کی زندگی کو ختم نہیں کر دیا بلکہ یہ موت ایک حیات لازوال کا موجب ہو گئی ہے۔خدا تعالیٰ کے حضور وہ اصحاب الجنہ میں داخل ہیں اور ان کے مدارج میں ہمیشہ ترقی ہوتی رہے گی۔دنیا میں وہ نیکی اور مخلوق کی بھلائی کے لئے اتنے کارنامے چھوڑ گئے ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ سمجھے جائیں گے۔حضرت میر ناصر نواب جیسی شخصیت کا انسان اگر یورپ میں ہوتا تو آج شہر کے سب سے بڑے چوک میں ان کا مجسمہ رفاہ عام کے کاموں کے لحاظ سے ہمدرد خلائق کے نام سے بنایا گیا ہوتا اور کئی سوسائٹیاں اور کلب ان کے نام پر جاری ہو جاتے۔ہم مجسموں اور بتوں کے قائل نہیں۔ان کے جاری کئے ہوئے کار خیر کے علاوہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ رشتہ داری کے تعلقات نے انہیں بقائے دوام کی کرسی پر بٹھا دیا ہے۔حضرت میر صاحب کی اس وقت تین زندہ اولاد میں ہیں۔حضرت ام المومنین (نصرت جہاں بیگم ) جس سے بڑھ کر دنیا کی کوئی خاتون آج روئے زمین پر ممتاز نہیں۔بڑے بڑے بادشاہوں کی بیبیاں اور مائیں ہیں ان کی عزت اور وجاہت کا اور رنگ ہے مگر ام المومنین کا مقام دوسرا ہے۔اب مسیح موعود اور مہدی مسعود قیامت تک نہ آئے گا اور یہ عزت جو حضرت ام المومنین کو ملی ہے کسی دوسری خاتون کو نہیں مل سکتی اور حضرت میر صاحب کو اس کا باپ ہونے کی وجہ سے جو درجہ ملا ہے کوئی شخص ان کا سہیم اور شریک نہیں ہوسکتا۔اس نسل سیدہ سے خدا تعالیٰ نے