حیاتِ ناصر — Page 44
حیات ناصر 44 تابع جماعت ہے کم سے کم زنا، چوری، شرک ، بدعت، شراب، جوئے ، فتنہ پردازی ، دروغ گوئی وغیرہ امور سے تو ضرور پر ہیز کرتی ہے اور بہت لوگ اس سے اعلیٰ درجہ کے ہیں جنہیں اولیاء کہنا بجا ہے۔وہ تو بہت ہی پاکباز اور نیک دل ہیں کہ جن کا ثانی مسلمانوں کے کسی فرقہ میں آجکل نہیں ہے لیکن خبیث تو ابوبکر صدیق اور علی مرتضیٰ کو بھی آج تک کا فر اور بے ایمان ہی کہتے جاتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کو آپ کی زندگی میں زنا کی تہمت لگائی تھی جس کا فیصلہ قرآن شریف نے کیا بلکہ مریم صدیقہ کو بھی یہود زانیہ اور عیسیٰ علیہ السلام کو حرامی کہتے تھے جن کا دامن قرآن شریف نے پاک کیا۔یہو داب تک باز نہیں آتے۔قولک - پیشخص جو امامت کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ بھی بیان کرتا ہے کہ میں مغل ہوں اور مغل ایک شعبہ ترکوں کا ہے تو ترکوں سے تو اس امت کو فلاح نہیں ہوئی بلکہ ترکوں کے ہاتھ سے تو امت کی تباہی ہوئی۔خلافت عباسیہ انہیں کے ہاتھ سے تباہ ہوئی۔حدیث شریف میں آیا ہے اتر کوا الترک ماتر کو کم۔اقول۔مسلمانوں کی تباہی ترکوں کے ہاتھ سے نہیں ہوئی۔بلکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کی۔جب حزم اور احتیاط کو ترک کر دیا اور غفلت اور عیش میں پڑ گئے تو رفتہ رفتہ کمزوری پیدا ہوتی گئی۔آپ بھی عیش میں پڑ گئے اور اہلکاروں کو بھی عیاش بنادیا اور وزیر جو بڑا معتبر چاہیئے وہ شیعہ مقرر کیا۔آخر جب اللہ تعالیٰ کی نظر میں لائق عذاب ٹھہر گئے تو اپنی ہی کرتوتوں کا پھل پایا۔اگر ترک اسی طرح غافل ہوتے اور مسلمان ہوشیار اور چست ہوتے تو یہ بھی ان کی سلطنت لے سکتے تھے۔حضرت عمر بھی تو خلیفہ تھے۔انہوں نے کس طرح ملک حاصل کیا تھا اور ملکہ معظمہ نے کیونکر ہندوستان لے لیا۔یہ شکایت عبث ہے اور ترک اس وقت کافر تھے اور تمہارے بزرگ مسلمان۔پھر کیا قہر ہوا کہ خدا نے کا فروں کو فتح دی۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے لن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلاً معلوم ہوتا ہے کہ وہ بچے مسلمان نہیں تھے اور خدائی قانون سے باہر ہو گئے تھے۔بعد فتح کے ترکوں اور مغلوں نے اسی صدی میں اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام اسلام کے حق میں نہایت مفید ہوا چنانچہ ان میں سے بعض نے تو ہندوستان میں اسلام کی سلطنت قائم کی اور کئی سو برس تک اسلام کی پشت و پناہ نہایت عمدگی سے بنے رہے۔علم کے بڑے قدردان تھے اور علماء کو بڑی بڑی جاگیریں اور عہدے دیتے تھے۔ہزار ہا مساجد تعمیر کرائیں، مدر سے بنائے۔جہاں بت خانے تھے وہاں مساجد تعمیر کرنا اور اللہ اکبر کی ندائیں بلند کرانا یہ شیخوں کا کام تھایا مغلوں کا۔ہندوستان میں شیخوں کی شیخی مغلوں کے ہی دم سے تھی۔اب تمہاری ساری شیخی کرکری ہوگئی۔دیکھو