حیاتِ ناصر — Page 8
حیات ناصر 8 کچھ کر نہ سکے بعض نے تو گالیاں بھی دیں اور بعض دانت پیس کر رہ گئے۔جانبین سے کوئی تکلف عمل میں نہیں آیا۔رسم و رسوم کا نام تک نہ تھا ہر ایک کام سیدھا سادہ ہوا۔میں نے جہیز کو صندوق میں بند کر کے کنجی مرزا صاحب کو دے دی اورلڑکی کو چپ چپاتے رخصت کر دیا۔برخلاف اس کے ہمارے کنبہ میں لاکھ لاکھ مہر بندھا کرتا ہے اور دنیا کی ساری رسمیں جو خلاف شرع ہیں ادا کی جاتی ہیں الحمد للہ علی ذالک کہ مروجہ بد رسوم میں سے ہمارے ہاں کوئی بھی نہیں ہوئی۔یہ قصہ خصوصاً اس واسطے لکھا ہے کہ اکثر احمدی احباب نکاح کا حال پوچھا کرتے ہیں کہ تمہارے ہاں حضرت مرزا صاحب کا تعلق کیونکر ہوا۔بار بار متفرق اصحاب کے آگے دوہرانے کی اب ضرورت نہیں رہی لوگ اس تحریر کو پڑھ لیں گے۔اس وقت میر محمد اسمعیل کی عمر تین چار سال کی تھی۔یہ بھی میرے حال میں ایک تبدیلی تھی اور زمانہ کا ایک عظیم پلٹا تھا جس کے سبب سے میں ایک بڑا اور تاریخی آدمی بن گیا۔چند اپنی برادری کے دنیا وار آدمیوں کو چھوڑا خدا تعالیٰ نے مجھے لاکھوں بچے محب اور ہزاروں مومنین صالحین عطا فرمائے جو مجھے بجائے باپ کے سمجھتے ہیں اور آئندہ جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوں گے وہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ مجھ پر بھی درود بھیجا کریں گے ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظیم۔یہ باتیں عاجز نے بطور فخر و تکبر کے نہیں لکھیں بلکہ بطور تحدیث نعمت تحریر کی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واما بنعمت ربک فحدث۔مختلف مقامات پر تبدیلیاں بعد اس کے میری تبدیلی انبالہ چھاؤنی کو ہوگئی وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے ملنے کے لئے تشریف لائے۔یہ پہلا شرف تھا جو مجھے حاصل ہوا لیکن میں نے اس کی شکر گزاری نہیں کی کیونکہ میں اس نعمت کی شناخت سے نابینا تھا۔پھر اس عاجز کی تبدیلی ایک بزرگ نے جو مجھ سے ناراض ہو گئے تھے لدھیانہ میں کرا دی۔لدھیانہ میں بھی چند بار حضرت مرزا صاحب مع اہل وعیال ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے عرصہ تک لدھیانہ میں رہے۔۱۸۸۹ء میں سلسلہ بیعت لدھانہ میں شروع ہوا اس وقت میں احمدی نہیں ہوا تھا اور نہ میں حضرت صاحب کو مسیح و مہدی مانتا تھا لہذا میں نے بیعت نہیں کی تھی۔میں منافق نہیں تھا کہ بظاہر بیعت کر لیتا اور دل میں مرزا صاحب کو سچا نہ سمجھتا اللہ تعالیٰ نے مجھے راستباز اور صاف گو بنایا ہے یہ بھی مجھ پر اللہ تعالیٰ کے افضال میں سے ایک بڑا فضل ہے۔لدھیانہ کو ایک اور بھی خصوصیت ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے وہاں آکر حضرت