حیاتِ خالد — Page 808
حیات خالد 797 گلدستۂ سیرت محترم مرزا عطاء الرحمن صاحب لندن رقم فرماتے ہیں:۔میں نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو بہت قریب رہ کر دیکھا ہے۔مناظروں میں بھی اور باہر کے جلسوں میں بھی جہاں راتیں اور دن بھی آپ کے ساتھ گزارے۔میں نے آپ کو عابد پر ہیز گار متقی اور نہایت مشفق بزرگ پایا۔بہت ہی با اخلاق ، ہنس مکھ اور باوجود بہت بڑے عالم ہونے کے منکسر المزاج ، تکبر سے بہت دور ، آپ کی محفل لغویات سے بالکل پاک ہوتی تھی۔ایک چھوٹی سی بات مجھے یاد آ گئی۔جب تک ۱۹۳۹ء میں میں افریقہ نہیں گیا تھا آپ مجھے عطاء الرحمن کہہ کر ہی بلایا کرتے تھے۔جب میں ۱۹۴۵ء کے وسط میں واپس قادیان آیا تو میں ایک بچی کا باپ بھی تھا۔اب آپ نے مجھے مرزا صاحب کہہ کر بلانا شروع کر دیا۔جو میرے لئے اس خیال سے بہت تکلیف دہ تھا کہ مجھ معمولی سے آدمی کو حضرت مولانا جیسا عظیم المرتبت شخص ایسے احترام کے ساتھ بلائے۔میں نے ایک دن عرض کیا کہ مولوی صاحب میں نے آپ سے ایک گزارش کرنی ہے۔آپ مجھے میرے نام سے ہی بلایا کریں۔اس پر آپ مسکرانے لگے۔میں نے پھر تا کیدی گزارش کی تو فرمایا۔اچھا۔اور مسکراتے رہے۔لیکن افسوس کہ میری یہ گذارش قبول نہ ہوئی اور پھر میں نے دوبارہ کہنا بے ادبی خیال کیا اور مجھے یہ بھی خیال ہوا کہ حضرت مولانا صاحب اَكْرِ مُوا أَوْلَادَكُمْ کے خیال سے ایسا فرماتے ہیں۔وو محترم مولانا بشیر احمد صاحب قمر رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا موصوف کی زندگی کا ہر پہلو اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ آپ دین کو دنیا پر مقدم کئے ہوئے ہیں۔آپ اپنے ہر قول و فعل کو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق ادا کرتے۔گویا خدا اور رسول کے مشورہ کے بعد اس کا اظہار فرماتے۔یقیناً آپ ان خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جن کو دیکھ کر خدایا د آ جاتا ہے۔ه مکرم خواجہ عبد المؤمن صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولوی صاحب ہر ایک سے محبت اور نرمی سے پیش آتے۔یہی وجہ تھی کہ جو آپ سے ایک بار ملتا وہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے جنازہ کے وقت لوگ پروانہ وار آپ کے جنازہ کو کندھا دے رہے تھے۔آپ کے جسد خاکی کی آخری زیارت کرنے کے بعد اکثر آنکھوں کو میں نے اشکبار پایا۔