حیاتِ خالد — Page 806
حیات خالد 795 گلدستہ سب شروع سے لے کر آخر تک بہترین خدمت میں مصروف رہے۔محترم مولانا ، مولوی فاضل کے امتحان میں یونیورسٹی بھر میں اول رہنے کے بعد ۱۹۲۵ء میں مبلغین کی کلاس میں زیر تعلیم تھے کہ خاکسار نے قادیان میں رہائش اختیار کی اور چند ماہ مدرسہ احمدیہ میں انگریزی پڑھانے کے لئے مقرر ہوا۔مبلغین کلاس بھی وہیں لگتی تھی۔محترم مولانا اپنی ذہانت اور پڑھائی میں نمایاں تھے۔اس عرصہ میں ان سے ملنے کے خاصے مواقع ملتے تھے۔حضرت مصلح موعود کے حکم کے تحت اس عاجز نے ۲ جنوری ۱۹۲۶ ء سے وکالت شروع کر دی لیکن ہفتہ میں کم از کم ایک دن کے لئے اور بعض دفعہ اس سے زیادہ قادیان آنے کا موقع خدا تعالی دیتا رہا۔اور تمام بزرگوں سے مراسم جاری رہے۔مولا نا ۱۹۳۱ء میں بلاد عربیہ میں تبلیغ کے لئے بھیج دیئے گئے جہاں وہ کئی سال نہایت شاندار خدمات سرانجام دیتے رہے۔وہاں سے آنے کے بعد بھی خدمات دین کے عمدہ سے عمدہ مواقع انہیں ملتے رہے۔مخالف علماء کے ساتھ آپ کے مباحثات بھی خوب ہوئے اور ہر جگہ اپنے علم اور دلائل کا اثر پیدا کرتے۔خاکسار کو محترم مولانا کے ساتھ کئی ایک کمیٹیوں میں کام کرنا پڑا۔آپ ایک خاص فاضل اجل کی حیثیت سے ماشاء اللہ بہت مفید ثابت ہوتے۔کئی سفر بھی آپ کے ساتھ کئے۔دو دفعہ مشرقی پاکستان بھجوایا گیا۔ایک دفعہ پشاور گئے اسی طرح اور بھی سفر کئے۔آپ خوش مزاج تھے اور عاجزانہ طبیعت رکھتے تھے۔آپ کی باتیں بہت عالمانہ اور ایمان افروز ہوتیں۔مکرم صو بیدار فضل قا در اٹھوال صاحب لکھتے ہیں : - مولانا بے مثل عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔سیر و شکار کا بے حد شوق رکھتے تھے۔میں ایک دفعہ ان کے ساتھ شکار کھیلنے موقع کھچیاں بھی گیا۔حضرت مولانا جیسے بے مثل عالم شاذ شاذ ہی ملتے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار مختلف قسم کی خوبیوں سے نوازا ہو۔اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کے درجات بلند کرے۔آمین محترم پروفیسر سلطان اکبر صاحب لکھتے ہیں :۔قادیان کے ایک جلسہ سالانہ کا فوٹو میں نے دیکھا اس میں آپ لوائے احمدیت کی پاسبانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپ بہت ہی باکمال بزرگ، عالم، محبت کرنے والے وجود، تکلف سے نا آشنا، سب چھوٹوں بڑوں کے ہمدرد اور ہمہ تن خدمت خلق اور خدمت دین حق پر کمر بستہ وجود تھے۔