حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 772 of 923

حیاتِ خالد — Page 772

حیات خالد 761 گلدستۂ سیرت ہاتھ وار امسیح میں بھجوائے اس سے ضعیف افراد کی دلداری اور قادیان کے درویشان سے آپ کی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔مکرم چوہدری عبد القدیر صاحب سابق ناظر بیت المال وافسر لنگر خانہ قادیان رقم فرماتے ہیں:۔محترم مولانا صاحب خشک عالم نہ تھے بلکہ بڑی مرنجاں مرنج طبیعت کے حامل تھے۔تقسیم ملک کے بعد ایک دفعہ قادیان تشریف لائے۔ان دنوں ویزے کی زیادہ سہولت ہوتی تھی۔آپ نے نہر پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔چنانچہ ایک روز چند دوستوں کے ساتھ نہر پر گئے اور وہاں پر نہانے اور تیر نے کے علاوہ کھانا بھی کھایا اور دلچسپی کی خاطر مشاعرہ اور لطائف کی مجالس بھی ہوئیں۔جب آپ قادیان تشریف لاتے تو از راہ نوازش خاکسار کے غریب خانہ کو برکت بخشتے اور مختلف موضوعات کا تذکرہ اس رنگ میں فرماتے کہ ازدیاد علم و ایمان کا باعث ہوتا اور اپنا عزیز سمجھ کر بے تکلفی سے فرماتے کہ یہ کھانا ہے یا یہ ضرورت ہے۔میں اسے سعادت سمجھ کر بجالاتا۔آپ کی زندگی میں جتنی بار بھی ربوہ گیا بڑی محبت سے یاد فرمایا۔قادیان کے حالات کی تفصیل دریافت کرتے اور کرید کرید کر زیادہ سے زیادہ واقفیت حاصل کرتے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ سرزمین قادیان سے آپ کی غیر معمولی محبت آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ قادیان کا تذکرہ بار بارسنیں اور زیادہ سے زیادہ تفصیل سے سنیں۔مكرم عطاء المجیب صاحب راشد قادیان دارالامان کے درویشان قادیان سے محبت درویشان کرام سے حضرت مولانا کی محبت کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں :- حضرت ابا جان کو قادیان دار الامان میں دھونی رما کر بیٹھنے والے درویشان سے دلی محبت تھی۔مجھے متعدد بار حضرت ابا جان کے ساتھ قادیان جانے کا موقع ملا ہے اور میں نے بار ہا یہ مشاہدہ کیا کہ ہر موقع پر آپ بڑی راز داری کے ساتھ حتی الوسع درویشان کرام کی مالی امداد فرماتے تھے۔اس خاموشی کے ساتھ کہ کسی ضرورت مند بھائی کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور ضرورت بھی احسن رنگ میں پوری ہو جائے۔علاوہ ازیں درویش بھائیوں کی تکریم ، دلداری اور حوصلہ افزائی کے مختلف ذرائع اختیار فرماتے۔سب سے بڑی محبت سے ملتے اور سب کو دعائیں دیتے۔ربوہ میں آنے والے درویشان کو گھر پر مدعو کر کے ان کی بھر پور ضیافت کرتے تھے۔اس سلسلہ میں مجھے ایک معین واقعہ یاد آیا جو بظاہر معمولی