حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 756 of 923

حیاتِ خالد — Page 756

حیات خالد 745 گلدستۂ سیرت کر سکتا اور نہ ہی اس کا ذہن سبق کو قبول اور اخذ کر سکتا ہے۔اس لئے دلجمعی اور توجہ اور بشاشت قلبی کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کلاس میں ہمیں نصیحت فرماتے کہ جب کوئی بات یا کوئی مسئلہ سمجھ میں نہ آئے تو بغیر جھجک کے دریافت کر لینا چاہئے کیونکہ استاد کی مثال اس بیری کی طرح ہوتی ہے جس پر سے بعض پیر تو پک کر خود بخود گر پڑتے ہیں اور بعض جھاڑنے پڑتے ہیں۔بعض مسائل کے عقدے سوال کرنے پر ہی کھلتے ہیں۔یوں تو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل کا ہر ایک شاگرد یہی سمجھتا ہے کہ حضرت مولانا کو مجھ سے ہی سب سے زیادہ محبت اور ہمدردی تھی مگر بغیر کسی ٹھر کے میں عرض کرتا ہوں کہ آپ کے ساتھ خاکسار کا تعارف اور محبت اس وقت زیادہ ہوئی جب میں مدرسہ احمدیہ پاس کر کے جامعہ احمد یہ قادیان میں داخل ہوا۔آپ اس وقت جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔میں اکثر بزرگان سلسلہ کو دعا کے لئے لکھا کرتا تھا کہ اللہ تعالی مجھے دین کا خادم بنائے۔ایک دن کلام کے استاد صاحب چھٹی پر تھے تو آپ خود ہماری کلاس میں تشریف لائے اور آپ نے طالب علموں سے کتاب پڑھوا کر سنی اور مجھ سے بھی سنی۔اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ آج میں نے عبدالمنان کو خواب میں دیکھا ہے یہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔میں نے سمجھا کہ ہمارے استاد میاں عبدالمنان صاحب عمر کو آپ نے خواب میں دیکھا ہو گا مگر آپ نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میں نے اس عبد المنان کو خواب میں دیکھا ہے یہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔اس کے بعد باہمی محبت بڑھتی گئی اور میں دعا کے لئے آپ کو بھی لکھتا رہا۔قیام پاکستان 7J کے بعد ہم احمد نگر آباد ہوئے تو جامعہ احمد یہ بھی احمد مگر میں جاری کیا گیا۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے بھی ایک مکان الاٹ کروا کر احمد نگر میں رہائش اختیار کر لی اور آپ وہاں کے صدر جماعت منتخب ہوئے۔خاکسار احمد نگر میں خدام الاحمدیہ کا قائد رہا۔احمد عمر کی جماعت مثالی خدمت بجا لاتی رہی۔بعض دفعہ آپ مجھے نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرماتے۔میں شاگرد ہونے کے لحاظ سے پس و پیش کرتا تو آپ نماز پڑھانے کی تاکید فرماتے۔جب میں نے مولوی فاضل کا امتحان اچھے نمبروں میں پاس کیا تو آپ بہت خوش ہوئے اور مجھے دو دفعہ محبت سے فرمایا کہ آپ جامعتہ المبشرین میں داخل ہو جائیں۔چنانچہ میں نے جامعۃ المبشرین میں داخلہ لے لیا۔اس طرح سے میں آپ کی دعاؤں سے خدمت دین کے لئے میدان میں آ گیا۔( الفضل ۲۵ جون ۷ ۱۹۷ء )