حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 71 of 923

حیاتِ خالد — Page 71

حیات خالد 75 اساتذہ کرام تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں نہایت اچھے اور ہمدرد اساتذہ عنایت فرمائے تھے ان میں حضرت میر صاحب کو ایک نمایاں امتیاز حاصل ہے۔مولوی فاضل پاس کرنے کے بعد جو انتہائی خلوص اور ہمدردی ہمیں اپنے شفیق استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب میں ملی تھی اسی کی مانند انہیں مولوی فاضل سے پہلے حضرت میر محمد اسحاق صاحب میں میسر تھی۔دوسرے بزرگ اساتذہ کے گراں مایہ احسانات بھی کبھی فراموش نہیں ہو سکتے۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا حضرت میر صاحب اپنی فطانت و ذہانت اور قادر الکلامی میں تفوق کے باعث سب طلبہ کیلئے مرجع ہوتے تھے۔مشکل اور پیچیدہ مسائل کے حل کرنے میں آپ کو خاص قدرت حاصل تھی۔شاگردوں میں سے ذہین اور ترقی کرنے والے طالب علم پر آپ کی نظر شفقت بھی بہت زیادہ ہوتی تھی۔آپ وقت کی پابندی میں بھی نمایاں طور پر ممتاز تھے اور پڑھاتے وقت پورے انہماک سے پڑھاتے تھے۔ایک عجیب وصف اور نا در خوبی آپ میں یہ تھی کہ آپ کو لا ادری کہنے میں کبھی تامل نہ ہوتا تھا۔اعلیٰ کلاسوں کے اسباق کے اوقات میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایسا ہوا کہ کوئی معلق عبارت آپ کو مسم نظر آئی آپ نے اس کیلئے طالب علم کو کتاب دیگر کسی دوسرے استاد کے پاس حل دریافت کرنے کیلئے بھیج دیا۔ایسا بھی ہوا ہے کہ جب آپ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا اور وہ مسئلہ آپ کو مستحضر نہ تھا آپ نے فی الفور فرمایا کہ مجھے اس وقت اس کا جواب نہیں آتا کل یا فلاں وقت جواب دوں گا۔یہ خوبی اس زمانہ میں کبریت احمر کا حکم رکھتی ہے مگر حضرت میر محمد اسحاق صاحب میں یہ خوبی بہت نمایاں تھی اور وہ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ کے مصداق تھے۔طلب علم میں انہیں کبھی عار نہ تھی۔آخری عمر تک علمی ترقی میں طالب علمانہ شغف سے مشغول رہے۔ہمارے ساتھ ہماری طالب علمی کے زمانہ میں بھی حضرت میر صاحب کا سلوک نہایت کر یما نہ تھا اور اس کے بعد بھی ۱۹۲۷ء سے لے کر ۱۹۴۴ء تک سترہ برس کے دوران مختلف حالتوں میں جب بھی ان سے مل کر کام کرنے کا موقع ملا حضرت میر صاحب ہمیشہ ہی محبت و رافت سے پیش آئے اور اتنی ذرہ نوازی اور شفقت کا سلوک کرتے تھے کہ ہمیں حیرت ہوتی تھی۔آپ نہایت بے نفس انسان تھے۔ریا، نمود اور خود پسندی سے کوسوں دور تھے۔دین کے لئے قربانی و ایثار ان کا شیوہ تھا۔ان کی زندگی ان سارے پہلوؤں سے ایک قابل رشک اور قابل تقلید نمونہ تھی۔آپ ہمیشہ مدلل اور مختصر بات کرتے تھے۔چونکہ سوچ سمجھ کر اور با موقعہ بات کرتے تھے اس لئے اسے حرف آخر کا حکم حاصل ہوتا تھا۔میں