حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 676 of 923

حیاتِ خالد — Page 676

حیات خالد 665 گلدستۂ سیرت۔بڑی اچھی طرح پرورش کی۔ان کو خوب پڑھایا۔حسب حالات بی۔اے ، ایم۔اے اور مولوی فاضل تک پڑھایا۔پھر سب کی شادیاں بھی اپنے خرچ پر ہی کیں۔اپنے بچوں اور اپنے بہن بھائیوں سب کی شادیوں کا انتظام خود فرمایا جن کی مجموعی تعداد سترہ ہے۔خدا کے فضل سے سب اپنے اپنے گھروں میں خوش باش ہیں اور سب صاحب اولاد ہیں۔حتی المقدور اُن سب کو خوش رکھا۔کسی کو کسی سے کبھی شکوہ پیدا نہ ہوا۔سب کے حقوق ادا کرتے تھے۔کسی کی خواہش کبھی رد نہ کرتے تھے۔عید کے موقعہ پر سب کو عید یاں دیتے تھے اور قیموں سے آپ کا خاص سلوک تھا۔آپ کی شدید خواہش تھی کہ کسی یتیم کی پرورش کی جائے۔کئی بچوں کو گھر میں رکھا مگر کوئی زیادہ عرصہ نہ رہا۔سب سے بڑی خوبی تو ان کی مہمان نوازی تھی جس کی سبھی جاننے والے گواہی دیتے ہیں۔گھر میں مہمان آنے سے بہت ہی خوش ہوتے تھے۔ہمارے گھر میں مہمان بکثرت آتے تھے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں اور بعد میں اکثر گھر میں دوستوں کو کھانے پر اور چائے پر ضرور بلایا کرتے تھے۔اسی طرح مشاورت کے موقعہ پر بھی خوب رونق لگاتے تھے۔درویشوں کی تو خوب آؤ بھگت کرتے اور بڑی خوشی مناتے اور فرماتے کہ یہ ساری جماعت کی خاطر وہاں حفاظت کے لئے اپنی جان کو ہتھیلی پر لیے بیٹھے ہیں۔ان کی جتنی بھی قدر کریں تھوڑی ہے۔اور پھر جو مبلغ باہر سے تبلیغ کر کے واپس آتے یا تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں جاتے ، بڑے اہتمام سے ان کو ضرور چائے پر ہلاتے اور الوداع کرنے بھی ضرور جاتے تھے۔اور غیر از جماعت لوگوں کو بھی اکثر بلاتے تھے۔رمضان میں تو اکثر ہی عزیزوں اور دوستوں کو افطار پر بلاتے تھے اور عید الاضحی پر قربانی بکرے یاد نے کی قریبا ہر سال کرتے۔صدقہ خیرات بھی بہت کرتے تھے۔کسی سوالی کو خالی نہ جانے دیتے تھے۔اگر کوئی کپڑا مانگتا تو بسا اوقات اپنی قمیص اتار کر بھی دے دیتے تھے۔وفات سے چند روز پہلے کسی نے بستر مانگا تو اُسی وقت دے دیا۔ایک دفعہ ایک آدمی نے کمبل مانگا تو آپ نے اوپر جو اوڑھا ہوا تھا اُسی وقت اتار کر دے دیا۔ایک یتیم بچہ آیا کہ میرے پاس کپڑے نہیں ہیں اُس کے لیے رات کو کپڑے سلوائے اور صبح کو دے دیئے۔ایک روز ہم سخت گرمی میں ربوہ سے احمد نگر گئے تو راستہ سے ایک بوتل شربت کی خریدی اور برف بھی لے کر گئے اور جاتے ہی ٹھنڈا پانی بنوایا۔میں سب سے پہلے گلاس بھر کر آپ کو دینے لگی کہ اتنے میں ایک سائل عورت آگئی تو آپ نے وہی گلاس اُس کو دلوا دیا اور خود بعد میں پیا۔تقسیم ملک کے بعد ہم جب احمد نگر میں رہے تو ربوہ میں آنا جانا ہوتا تھا تو مولوی صاحب سالم