حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 65 of 923

حیاتِ خالد — Page 65

حیات خالد 69° اساتذہ کرام گیا۔ان دنوں میں فارغ التحصیل ہو کر تبلیغی میدان میں کام کر رہا تھا۔حضرت قاضی صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ ساڈی استادی گھرل ہوگئی ہے، میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔فرمانے لگے کہ اب سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ یہ حافظ روشن علی کے شاگرد ہیں۔ہم نے جو مدرسہ میں پڑھایا کیا وہ ضائع ہو گیا ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کی استادی پہلے ہے وہ ضائع کس طرح ہو سکتی ہے۔وہ تو اصل بنیاد ہے لوگوں کی غلطی ہے اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں ہم تو ہمیشہ آپ کے شاگرد ہونے پر فخر کریں گے۔باقی آخر میں چونکہ ہم نے حضرت حافظ صاحب سے پڑھا ہے اس لئے لوگوں کو غلطی لگتی ہوگی۔یہ گفتگو اس محبت اور قدردانی کی غماز تھی جو ہمارے اساتذہ کے دلوں میں ہمارے لئے تھی۔یہ مضمون اتنا وسیع ہے کہ اس پر ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے۔(الفرقان اپریل ۱۹۷۰ صفحه ۴۴ تا۴۶ ) قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر اور علمی لیاقت میں اس کے قابل اساتذہ کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اپنی تحریرات میں بارہا بہت ہی محبت اور تشکر و امتنان سے اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت ہی قابل ، محبت کرنے والے اور اعلیٰ اخلاق کے مالک خدا نما وجود بطور استاد عطا فرمائے۔ظاہر ہے کہ ان اساتذہ کے ذکر کے بغیر حضرت مولانا کی سوانح نامکمل رہے گی۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ قریباً سب اساتذہ کا ذکر ہمیں خود حضرت مولانا کے قلم سے مل گیا ہے۔یہ سارا تذکرہ با وجود اختصار کی کوشش کے کافی تفصیلی ہو گیا ہے لیکن ان سب بزرگان کے اس بابرکت ذکر کو اس کتاب میں شامل کرنے سے اصل غرض یہ ہے کہ جہاں ایک طرف آسمان احمدیت کے ان روشن ستاروں کا ذکر آ جائے گا وہاں یہ بات بھی قارئین پر خوب واضح ہوگی کہ ان خدا رسیدہ بزرگوں کی محنت اور دعاؤں نے کیسا شیریں ثمر پیدا فرمایا جو حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے ” خالد احمدیت " کہلایا۔ایک اور حکمت اساتذہ کے اس تفصیلی تذکرہ سے یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ تذکر ہ اکثر و بیشتر حضرت مولانا کے اپنے قلم سے ہے اس لئے اساتذہ کے ذکر خیر کے ساتھ ساتھ شاگرد رشید کے پاکیزہ جذبات، انداز شکر گزاری، قلبی تعلقات اور نہایت بالغ نظر اور لطیف انداز بیان کا بھی خوب رنگ جمتا ہے۔جس عمدگی اور حسن انتخاب سے آپ نے اپنے اساتذہ کی خوبیوں کو ایک ایک کر کے اجاگر کیا ہے ان کا تذکرہ بہت پر لطف اور ایمان افروز ہے اور اس طرح یہ سب بیانات اس پہلو سے خود حضرت مولانا کی سوانح اور سیرت کا ایک لازمی حصہ دکھائی دیتے ہیں۔اس تمہید کے بعد اب حضرت مولانا کے