حیاتِ خالد — Page 63
حیات خالد 67 اساتذہ کرام اساتذہ کرام قابل محنتی ، شفیق، محبت کرنے والے اور خلص اساتذہ کرام کا میسر آنا کسی بھی طالب علم کی خوش قسمتی ہے۔دوسری طرف ایک استاد کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کے شاگرد یا کوئی ایک شاگرد ایسے لائق نکلیں کہ جن کی وجہ سے استاد کا نام روشن ہو۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کے استادوں میں سے بعض تو ایسے تھے جو خود شہرت کے آسمان پرستاروں کی مانند جگمگاتے تھے۔بہت سے مخلص اور خدا رسیدہ اساتذہ ایسے بھی تھے جنہوں نے اگر چہ خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری جیسے ہیروں کو ایسا تراشا کہ ایک دنیا کی نگاہیں ان کی چمک دمک سے خیرہ ہوگئیں لیکن خود وہ گمنامی کے پرودں میں ہی ملفوف رہے۔مشہور عالم اساتذہ میں علامہ و ہر فاضل اجل حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب تھے۔جبکہ دیگر اساتذہ میں اور بہت سے بزرگان شامل تھے۔ان میں سے کئی اساتذہ کرام کا ذکر حضرت مولانا نے خود س اساتذہ کرام کی شفقت کا تذکرہ اپنے قلم سے فرمایا ہے۔حیاۃ ابی العطاء۔میری زندگی، 66 چند منتشر یا دیں۔مطبوعہ الفرقان اپریل ۱۹۷۰ء میں رقم فرماتے ہیں:۔استاد، قابل اور ہمدرد استاد ایک نعمت ہے۔اللہ تعالٰی نے مدرسہ احمدیہ قادیان کیلئے ایسے ہی اساتذہ مہیا فرمائے تھے جو عالم با عمل تھے اور طلبہ کے نہایت درجہ خیر خواہ بھی تھے۔ان دنوں جب میں مدرسہ احمدیہ میں (۱۹۱۶ء میں ) داخل ہوا تھا سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب افسر مدرسہ تھے جن کی شفقت و ہمدردی کو سب جانتے ہیں۔پہلی جماعت میں قرآن مجید، حدیث ، عربی ادب حتی کہ انگریزی، حساب اور جغرافیہ پڑھانے والے اساتذہ بھی دعا گو اور تہجد گزار ہوتے تھے۔نہایت محنت سے پڑھاتے تھے۔جس طالب علم کو کسی مضمون میں کمزور دیکھتے تھے اسے مدرسہ کے علاوہ دیگر اوقات میں بھی پڑھاتے تھے۔میں اب بھی حیران ہوں کہ اس زمانہ میں اساتذہ اس طوعی تعلیم کیلئے طلبہ سے کسی قسم کے معاوضہ یا ٹیوشن کے خواہاں نہیں ہوتے تھے بلکہ محض اللہ تعالی کی خاطر وہ یہ طریق اختیار کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ پہلی جماعت میں ہی حضرت قاری غلام یاسین صاحب مرحوم نے محنت سے زائد وقت دے کر مجھے قرآن مجید پڑھایا