حیاتِ خالد — Page 57
حیات خالد 60 ولادت ، بچپن اور تعلیم صاحب کو غلطی لگ گئی ہے۔جب ہم مولوی فاضل کلاس میں داخل ہونے کیلئے مدرسہ میں آئے تو شیخ مصری صاحب نے کہا کہ اب امتحان میں وقت تھوڑا رہ گیا ہے کو رس بڑا ہے آپ لوگ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔اس وقت ہمارے اساتذہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت قاضی سید امیر حسین صاحب ، حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب حلالپوری اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب وغیر ہم نے ہمیں تسلی دی کہ ہم زائد وقت دے کر بھی کورس ختم کرا دیں گے آپ لوگ اپنی ذمہ داری پر داخلہ لے لیں۔چنانچہ میں نے سب طلبہ کی طرف سے ہیڈ ماسٹر صاحب کو تحریر دے دی کہ اگر خدانخواستہ ہم فیل ہو جائیں تو یہ ہماری ذمہ واری ہوگی۔ان بزرگ اساتذہ نے بڑی محنت سے کورس کا بیشتر حصہ پڑھا دیا۔جزاهم الله خيرا۔دعائیں بھی کیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالٰی کے فضل سے ہم اس جماعت کے آٹھوں کے آٹھوں طلبہ یونیورسٹی میں کامیاب ہو گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یونیورسٹی میں اول آنے کی بھی توفیق بخشی۔فالحمد للہ۔- (الفرقان اپریل ۱۹۷۰ صفحه ۴۴-۴۵) روز نامہ الفضل قادیان نے مولوی فاضل کے امتحان میں یونیورسٹی میں اول آنا اس خبر کو یوں شائع کیا:- امسال سات اصحاب نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا جن کے نام حسب ذیل ہیں :- ا۔مولوی اللہ دتا صاحب ۲۔مولوی عبد الاحد صاحب ۳۔مولوی فضل دین صاحب ۴۔مولوی تاج الدین صاحب لاکپوری ۵ مولوی عبداللہ صاحب مالا باری ۶ - مولوی عزیز بخش صاحب ے۔مولوی عبد الغفور صاحب الفضل قادیان ۲۲ جولائی ۱۹۲۴ء) امسال پنجاب یونیورسٹی کے مولوی فاضل کا امتحان دینے والوں میں سے ہمارے مدرسہ احمدیہ کے طالب علم مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری اول نمبر پر آئے اور ۳۶۸ نمبر حاصل کئے۔مولوی صاحب اور مدرسہ احمدیہ کو مبارک باد۔(الفضل قادیان ۳۱ جولائی ۱۹۲۴ء) نوٹ : - کلاس کے طلبہ کی تعداد میں سات اور آٹھ کے فرق کی وجہ غالبا یہ ہے کہ مکرم مولوی محمد یار صاحب عارف اگر چہ اسی کلاس میں تھے لیکن کسی وجہ سے باقی ساتھیوں کے ساتھ امتحان میں اس سال شامل نہ ہو سکے انہوں نے یہ امتحان اگلے سال یعنی ۱۹۲۵ء میں پاس کیا تھا۔