حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 566 of 923

حیاتِ خالد — Page 566

حیات خالد 560 ذاتی حالات صاحبہ کااار جنوری (۱۹۳۰ء۔ناقل ) طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔نماز جنازہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے پڑھائی اور مرحومہ مقبرہ بہشتی میں دفن کی گئیں۔ہمیں اس صدمہ میں مولوی صاحب موصوف اور ان کے خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی ہے۔خدا تعالیٰ انہیں صبر دے۔احباب مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت فرما ئیں اور یہ بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کے تین خوردسال بچوں کو جن کی غور و پرداخت کا سارا بوجھ اب مولوی صاحب موصوف پر آپڑا ہے، لمبی عمر عطا کرے اور دین کے خدمت گزار بنائے۔(الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۳۰ صفحه از برعنوان مدینه (های) المیہ اول کے انتقال پر حضرت مولانا نے الفضل میں جو مضمون رقم فرمایا وہ ذیل میں درج ہے۔میری رفیقہ حیات مشکلات ومحن میں برابر کی شریک اور میری بیوی کا افسوسناک انتقال مونس ونخوار دس گیارہ جنوری کی درمیانی شب ٹھیک ۲ بجے ۲۲ سال کی عمر میں اس دنیا سے سدھار گئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مرحومہ کی وفات اس کی ذات کے لئے تو بہشت کا دروازہ اور کلید جنت تھی ہاں پسماندگان کے لئے طبعی طور پر رنج و کرب کا موجب ہوئی۔اَجَرَهُمُ اللَّهُ - مرحومہ بہت سی خوبیوں کی مالک تھی۔میں مدرسہ احمدیہ کی پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ ۷ دسمبر ۱۹۲۰ء کو ہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔بعد ازاں نو برس کے عرصہ میں کئی مشکلات آئیں۔مگر وہ ہمیشہ نہ صرف خود صبر کرتیں بلکہ میری تسلی کا ذریعہ بنیں۔اگر کبھی فاقہ بھی کرنا پڑا تو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔میری تبلیغی ضروریات میں ان کا وجود بسا غنیمت تھا۔سلسلہ کے لئے غیرت تھی اور خدمت دین کا شوق۔اپنی بساط کے مطابق مالی خدمت کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کاموں کے ذریعہ ثواب حاصل کرنے کے درپے رہتی تھیں۔میں جب کوئی ٹریکٹ وغیرہ شائع کرتا تو بسا اوقات فرمے درست کرنے اور پیک کرنے میں ممد و معاون بنتیں۔لجنہ اماءاللہ قادیان کی ممبر تھیں۔اگر چہ خود زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھیں مگر اپنے بچوں کے متعلق بہت بلند خیالات رکھتی تھیں۔قادیان کی مستقل رہائش کے لئے بھی ایک بلند مقام پر وگرام بنا رکھا تھا۔مگر مشیت ایزدی نے یاوری نہ کی اور قضاء وقدر کا زبردست ہاتھ ہم میں حد فاصل بن گیا۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بھی بہت شوق تھا مگر صحت نے اجازت نہ دی۔طویل اور تکلیف دہ مرض کے باوجود اللہ کا شکر اور حمد وثناء ان کا وظیفہ تھا۔کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آیا۔مرحومہ کی یادگار تین بچے ہیں۔دولڑکیاں اور ایک لڑکا۔