حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 521 of 923

حیاتِ خالد — Page 521

حیات خالد 512 ضمون نویسی یہ کیا ہونے والا ہے؟ کیا خدائے قدوس نے انسانوں کی ہلاکت کے احکام صادر فرمائے ہیں۔اس نے میری طرف ایک معنی خیز نظر سے دیکھ کر کہا ” ہلاکت نہیں دنیا کی نجات کا سامان ہونے والا ہے۔فرشتہ یہ کہہ کر اپنی راہ چلا گیا۔اور میں ششدر و حیران تھا الہی کیا ماجرا ہے۔ان ناپاکیوں میں لتھڑے ہوئے انسانوں کی نجات کا سامان ہونے والا ہے۔شاید میں بات کو نہیں سمجھا۔میں اسی حالت میں تھا کہ ایک دوسرا فرشتہ بہت بڑا مشعل ہاتھوں میں لئے سامنے سے گذرا اس روشنی سے آنکھوں میں ٹھنڈک اور دماغ پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔میں تیزی سے آگے بڑھا اور۔با ادب عرض کیا " کیا دنیا تباہ کی جارہی ہے اور انسانوں کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیا جائے گا؟"۔فرشتہ مظہر گیا اور گرجتی ہوئی آواز میں بولا تو عالم بالا میں آ کر بھی واقعات سے اس قدر نا واقف ہے؟“ پھر اسے میری بیکسی اور سراسیمگی دیکھ کر ترس آیا اور اس نے کہا۔"اے آدم زاد! آج خدا کی رحمت جوش میں ہے۔یہ بھرے ہوئے مشکیزے انسانی گناہوں کے باعث بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنے اور یہ روشن مشعلیں ان کے تیرہ و تاریک دلوں کو منور کرنے کیلئے ہیں۔اور ہم سب خدا کے اطاعت گزار بندے ہیں۔فرشتہ اپنی مفوضہ ذمہ داری ادا کرنے کے لئے غائب ہو گیا اور میں اپنی جگہ بے حس و حرکت کھڑا رہا۔اس آواز نے دل میں ایک نئی لہر دوڑا دی۔اور آہستہ آہستہ نئے احساس کے ماتحت بالیدگی ختلفتگی سے بدلنا شروع ہو گئی۔لیکن ہنوز میرے تعجب اور میری حیرت میں کمی پیدا نہ ہوئی۔کیونکہ میں ابھی تک اس اچھی بات اور اس غیر متوقع انقلاب کا سبب نہ سمجھ سکا تھا۔میں نے پھر عرش کی طرف قدم بڑھایا وہاں پر کروبیوں کی تسبیح و تحمید سے نا قابل بیان حالت پیدا تھی۔فرحت کا عجب سماں تھا۔نغمہائے شادی کی ترنم ریزیاں بے حد کیف آور تھیں۔لیکن میں کیونکر بتاؤں کہ جونہی ایک آہ! ایک دلفگار انسان کی آہ زمین سے بلند ہوئی عرش میں جنبش پیدا ہوگئی اور فرشتوں پر بے ہوشی کا عالم طاری ہو گیا اور رحمت الہی کے سمندر میں غیر معمولی تموج پیدا ہو گیا۔مجھے بتایا گیا کہ اسی دلسوز آواز نے یہ تغیرات پیدا کئے ہیں۔اسی سے انسانوں کی تقدیر کا نقشہ بدل گیا ہے اور اسی کی خاطر آسمانوں پر نئے سامان ہورہے ہیں۔یہ آواز اس سے پہلے بھی سالہا سال سے بلند ہوتی تھی۔مگر آج اس میں اور ہی تاثیر اور اور ہی جذب ہے یہ آو اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے اور اب اس اثر کا بے اثر رہنا محال ہے جو تو دیکھتا ہے یہ سب اسی کا اثر ہے۔مجھے بے انتہا شوق پیدا ہوا کہ اس آہ کے بلند کرنے والے کو دیکھوں۔میں نے پھر زمین پر نگاہ