حیاتِ خالد — Page 50
حیات خالد 53 ولادت بچپن اور تعلیم مرحوم سے نہایت مخلصانہ اور محبانہ تعلقات اخوت تھے۔حضرت حاجی صاحب کی پہلی بیوی سے اولاد نہ تھی اس وجہ سے انہوں نے دوسری شادی کی۔دوسری شادی ہندوانہ اثر کی وجہ سے راجپوت برادری میں اچھی نظر سے نہیں دیکھی جاتی تھی۔میں نے کئی دفعہ حضرت والد صاحب مرحوم کو دعا کرتے سنا کہ اے اللہ ! تو حاجی صاحب کو اولاد عطا فرما۔چنانچہ اللہ تعالی نے بڑی عمر کے باوجود حضرت حاجی صاحب کو بچے عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلص احمدی اور ہونہار خادم سلسلہ ہیں۔اس جگہ ان امور کے ذکر سے میری غرض یہ ہے کہ اس ماحول کا مختصر تذکرہ ہو جائے جو اولین احمد یوں میں ہوا کرتا تھا اور اب بھی بہتوں کو یہ نعمت میسر ہے مگر کئی عزیز اس سے غافل ہیں۔یا درکھیں کہ اخوت روحانی کی یہ نعمت اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے اس کی افراد جماعت جتنی بھی قدر کریں کم ہے۔مضمون نویسی کا آغاز مدرسہ احمدیہ کی دوسری جماعت سے ہی مجھے زائد مطالعہ بالخصوص دوسرے مذاہب کی کتابوں اور اخباروں کے مطالعہ کا شوق پیدا ہو گیا۔کچھ اخبار تو مدرسہ میں میسر تھے اور باقی کیلئے بوقت فرصت حضرت قاضی اکمل صاحب کے دفتر میں بعض دوسرے طلبہ کے ساتھ جانے لگا۔یہ دفتر ان دنوں ریویو آف ریلیجنز اردو اور توحید الا زبان کا دفتر تھا اور حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے مکان کے نزدیک تھا۔حضرت قاضی صاحب طلبہ کے مطالعہ اخبارات کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور مضمون لکھنے کی جرات دلاتے تھے اور مضامین کی اصلاح کر کے انہیں شائع بھی کر دیا کرتے تھے۔وہاں جانے والے طلبہ میں مولانا جلال الدین صاحب شمس پیش پیش تھے۔وہ مجھ سے پانچ سال آگے تھے۔ان کے اور بعض دیگر بڑے طلبہ کے مضامین ان دنوں بعض رسالوں میں چھپا کرتے تھے۔ان مضامین کو دیکھ کر مجھے اپنی سادگی کے ماتحت شروع شروع میں خیال پیدا ہوا کرتا تھا کہ یہ لوگ سارے مضمون لکھ دیں گے۔جب ہم لکھنے کے قابل ہوں گے تب تک سب مضمون ختم ہو جائیں گے پھر ہم کیا کریں گے؟ یہ میری کم علمی اور سادگی تھی مگر اس سے یہ ظاہر ہے کہ میرے دل میں امنگ اور حوصلہ تھا۔آخر میں نے مدرسہ احمدیہ کی تیسری جماعت میں پہلا مضمون اخبار کے لئے لکھا جس کا عنوان تھا اسلام اور تلوار۔بڑے حجاب کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ میں یہ مضمون ہفت روزہ اخبار نور قادیان میں اشاعت کیلئے دوں۔مگر جھجک کا یہ عالم تھا کہ مسجد اقصی قادیان میں نماز فجر پڑھنے کے بعد جبکہ ابھی اندھیرا ہی تھا میں جناب سردار محمد یوسف صاحب مرحوم ایڈیٹر اخبار نور کے مکان پر جو مسجد