حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 507 of 923

حیاتِ خالد — Page 507

حیات خالد 497 آج کل پاکستان میں عیسائی پادری اپنی تبلیغ میں زور لگا رہے ہیں۔ہم اپنی اس لا جواب گفتگو کو اب تیسری مرتبہ اپنے سابقہ چیلنج کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا دعوی ہے کہ اب بھی کوئی پادری ان دلائل کا جواب نہیں دے سکتا۔مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ پوری جرات سے ان حوالہ جات اور ان دلائل کو عیسائیوں کے سامنے پیش کریں۔یہ سب حوالہ جات خود بائبل سے ماخوذ اور پورے طور پر صحیح ہیں۔یقین ہے کہ ہر جگہ عیسائی ان دلائل کے سامنے لا جواب ہوں گے۔انشاء اللہ۔واخر دعـــوانــا ان الحمد لله رب العالمين ، 0 تصنیفات مباحثہ مصر کے بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا: - مناظرہ تو خیر کا سر صلیب کے شاگرد ہونے کی وجہ سے کامیاب ہونا ہی تھا مگر مجھے اس مناظرہ کی روئیداد پڑھنے سے حیرت ہوئی کہ مولوی صاحب نے اس مختصر سے مناظرہ میں کتنا مواد بھر دیا ہے۔یہ مناظرہ یقینا ان احمدی مبلغوں کے بہت کام آ سکتا ہے جن کا مسیحی مشنریوں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔محترم شیخ نور احمد صاحب منیر حضرت مولانا کی کتب کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:۔0 " تالیف و تصنیف کے میدان میں مرحوم کا کام بہت وسیع ہے۔کئی کتب تحریر کیں۔عربی ممالک میں قیام کے دوران رسالہ البشر کی جاری کیا۔جس میں بہت سے قیمتی مضامین تحریر کئے۔ممالک عربیہ میں اس رسالے کے مضامین بہت ہی دلچسپی اور شوق سے پڑھے جاتے تھے۔بالخصوص وہ مضامین جو اسلام اور عیسائیت کے مابین موازنہ پر ہوا کرتے تھے۔ان میں ایک خاص شوکت ہوتی اور ان کا انداز فاتحانہ ہوتا۔آپ وہ مجاہد اسلام تھے جنہوں نے بلاد عربیہ میں پادریوں سے عظیم مناظرے کئے۔یہ مناظرے شائع شدہ موجود ہیں۔مباحثہ مصر ایک شاندار مباحثہ ہے۔جس میں چوٹی کے عیسائی پادریوں نے حصہ لیا۔مگر جماعت احمدیہ کے مجاہد اسلام ابوالعطاء نے ان کا طلسم ریزہ ریزہ کر دیا۔اور سننے والوں نے کہا کہ یہ مباحثہ جاء الحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ کی متحرک تصویر ہے آپ نے اسلام کے دفاع میں پادریوں کو هَلْ مِنْ مُبَارِز ؟ کے الفاظ میں چیلنج دیئے اور ان پر اتمام حجت کی۔( الفضل ۳ / جولائی ۱۹۷۷ء)