حیاتِ خالد — Page 49
حیات خالد 52 ولادت ، بچپن اور تعلیم یاد ہے کہ حضرت حاجی صاحب مرحوم نے مجھے شاباش دی اور خود کھڑے ہو کر بیان فرمایا کہ میدان جنگ میں لڑنے والا سپاہی اگر میدان میں جائے ہی نہیں تو وہ لڑ کس طرح سکتا ہے۔پہلا قدم تو میدان جنگ میں جانے کا ہے۔میں خوش ہوں کہ یہ عزیز تقریر کیلئے کھڑا تو ہو گیا باقی دو کو تو کھڑا ہونے کی بھی ہمت نہیں ہوئی۔پھر انہوں نے تقریر کی تعریف کر کے بھی میری ہمت افزائی کی اور سب احباب کو دعا کیلئے تحریک فرمائی۔حضرت حاجی صاحب کا ذکر آ گیا ہے تو اس حضرت حاجی غلام احمد صاحب کی صفات جگہ اپنے اس مشاہدہ کا بیان کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت حاجی صاحب ہر احمدی کیلئے محبت کا ایک سمندر تھے۔مہمان نوازی ان کی فطرت میں داخل تھی۔بارہا میں نے دیکھا ہے کہ جونہی کوئی نیا مشخص آتا تو خود یا کسی ملازم کو فی الفور گھر بھیجتے اور لسی ، شربت، چائے اور کھانا منگواتے اور نہایت اکرام سے پیش کرتے اور بہت اصرار سے مہمان کو کھلاتے۔دراصل ان دنوں سب احمدیوں میں حقیقی اخوت پورے طور پر موجزن تھی۔حضرت والد صاحب مرحوم گاؤں میں اکیلے احمدی تھے۔ہمارے گاؤں کر یہا اور کریام میں اڑھائی تین میل کا فاصلہ تھا۔نماز جمعہ کیلئے والد صاحب بالالتزام کر یام تشریف لے جاتے اور کبھی کبھار جب کریانہ کی دکان کیلئے کچھ سامان بھی خریدنا ہوتا تو آپ نماز جمعہ ہنگہ میں ادا فر ماتے تھے۔وہاں بھی بڑی جماعت تھی۔میں نے دیکھا کہ جب کبھی بیماری یا کسی اور وجہ سے حضرت والد صاحب کر یام نہ جاسکتے تو شام کو خود حضرت حاجی صاحب یا ان کا کوئی نمائندہ دریافت حال کیلئے کر یہا پہنچ جاتا تھا۔ایک دفعہ گاؤں کے کچھ راجپوتوں سے ایک دیوار کے سلسلہ میں والد صاحب مرحوم کا کچھ تنازعہ ہو گیا۔قریب تھا کہ لڑائی ہو جاتی۔کریام میں خبر پہنچ گئی تو مہٹ تین چار دوستوں کے ساتھ حضرت حاجی صاحب ہمارے گاؤں پہنچ گئے۔معاملہ تو رفع دفع ہو گیا مگر لوگوں نے محسوس کر لیا کہ میاں امام الدین اگر چہ اپنے گاؤں میں اکیلے احمدی ہیں مگر جماعت احمدیہ کی باہمی اخوت کے باعث ان کی برادری بڑی وسیع ہے۔میرے والد صاحب مرحوم نہایت غیور احمدی تھے دین کے معاملہ میں کسی قسم کے اخفاء یا مداہنت کے ہرگز قائل نہ تھے۔گاؤں میں مخالفت بھی ہوتی تھی مگر وہ ہر مخالفت کو خوشی اور ہمت سے برداشت کرتے تھے۔غرض جماعت احمد یہ کر یام اور بالخصوص حضرت حاجی غلام احمد صاحب کے ہمارے والد صاحب