حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 485 of 923

حیاتِ خالد — Page 485

حیات خالد 483 تصنیفات عزیزم عطاء الرحمن صاحب طاہر سلمہ ربہ اور اخویم شیخ عبد القادر صاحب فاضل بھی تھے۔دن اور رات کے کام کا مقررہ پروگرام ہوتا تھا۔بعد نماز عصر ہم سب سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔کیا ہی مبارک اور قابل رشک ایام تھے۔غالباً وسط ستمبر ۱۹۳۰ء میں میری کتاب مکمل ہو گئی۔میں نے قادیان پہنچ کر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سے درخواست کی کہ حضور اسے ملاحظہ فرمالیں۔جسے حضور نے از راه نوازش منظور فرمایا۔اپنی غیر معمولی مصروفیات کے باعث تین ہفتے تک آپ غالباً پہلی دو تین فصلیں دیکھ سکے تھے کہ آپ نے مجھے فرمایا کہ میں نے ایک حصہ دیکھ لیا ہے، بہت اچھا ہے آپ اسے چھپوا دیں، ایسا نہ ہو کہ جلسہ پر طبع نہ ہو سکے۔حضور ایدہ اللہ بنصرہ نے ہی اس کتاب کا نام ”تفہیمات ربانیہ تجویز فرمایا اور آپ کی اجازت سے ہی میں نے اسے اپنے محسن اور محترم استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب کے نام پر معنون کیا۔وقت کی تنگی کے باوجود خویم مکرم ملک فضل حسین صاحب مینیجر بنک ڈیو قادیان کی ہمت سے یہ یخنیم کتاب جلسہ سالانہ ۱۹۳۰ ء پر شائع ہو گئی۔تمہیمات ربانیہ کا پہلا ایڈیشن بہت جلد ختم ہو گیا۔احباب نے بار ہا تحریک کی کہ اسے دو بار و طبع کرایا جائے مگر میرے فلسطین، شام اور مصر کے پنجسالہ تبلیغی سفر اور دیگر مصروفیات و حالات کے باعث اس طرف توجہ نہ ہوسکی۔البتہ دوسری متعدد کتب تصنیف کرنے کی توفیق ملتی رہی۔اب پورے چونتیس (۳۴) برس کے بعد یہ کتاب دوبارہ طبع ہو رہی ہے۔سچ ہے کہ آسمان سے ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔اب نظر ثانی کے وقت عشرہ کاملہ وغیرہ کتب کے اعتراضات کے جوابات میں مفید اضافہ جات کے علاوہ اس میں مسئلہ وفات مسیح ناصری علیہ السلام ، مسئلہ ختم نبوت اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہم اختلافی مسائل پر سیر حاصل بحث بھی شامل کر دی گئی ہے۔بعض نئے حوالے بھی درج کر دیئے گئے ہیں۔نئے اور پرانے متفرق اعتراضات کے جوابات کیلئے ایک مستقل فصل ( یاز دہم نمبر 11) مخصوص ہے۔سلسلہ احمدیہ کے نئے مخالفین جناب مودودی صاحب اور جناب پرویز صاحب کے ختم نبوت کے بارے میں تازہ جملہ اعتراضات کے جواب بھی اس ایڈیشن میں شامل ہیں۔الغرض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے تفہیمات ربانیہ کا یہ دوسرا ایڈیشن مشہور ضرب المثل العود احمد“ کے مطابق اپنی جامعیت اور افادیت میں پہلے سے بھی کافی بڑھ کر ثابت ہوگا۔انشاء اللہ العزیز۔کا