حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 469 of 923

حیاتِ خالد — Page 469

حیات خالد 465 ماہنامہ الفرقان کل الفرقان کا سالنامہ بابت نومبر دسمبر ۱۹۷۶ء ملا اور حسب معمول شام تک صفحہ اول سے لے کر آخر تک پڑھ کر اشتیاق اور دلچپسی کے تقاضوں کو پورا کیا۔ماشاء اللہ ماہنامہ مطبوعہ مقاصد واغراض کو بدرجہ غایت پورا کر رہا ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء (الفرقان مارچ ۱۹۷۷ء صفحه ۱۲) الغرض جب بھی دلچسپ تبصرہ جات اور آراء مولانا ابوالعطاء صاحب کو موصول ہو تیں آپ ان کو گا ہے گا ہے شامل اشاعت کرتے رہتے۔اور بعض خطوط ایسے بھی ہوتے جن میں ہلکی پھلکی تنقید بھی ہوتی اور مولانا ان خطوط کو بھی شامل کر دیتے۔0 قارئین الفرقان کے تاثرات مکرم سید عبدالحی صاحب ناظر اشاعت آپ نے بتایا کہ مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب الفرقان کے لئے بہت کام کرتے تھے اور راتوں کو جاگ جاگ کر پروف ریڈنگ کا کام نپٹاتے تھے۔یہ رسالہ 20x30/8 سائز میں نیوز پرنٹ پر چھپتا تھا۔حضرت مولانا ۲۰ دن پہلے یعنی ہر ماہ کی تقریباً ۱۰ تاریخ کو اگلے ماہ کا رسالہ کتابت کے لئے دے دیتے تھے۔رسالہ نکالنے میں تقریباً ایک مہینہ لگ جاتا تھا۔حضرت چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کو اگر رسالہ وقت پر نہ ملتا تھا تو وہ فوراً لکھتے تھے یا پھر جب خود آتے تو جتنے رسالہ جات رہ گئے ہوتے وہ سب ایک ہی دفعہ لے جاتے تھے۔اس وقت ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مقدمات ہوا کرتے تھے اور الفرقان پر بھی دو مقدمات ہوئے اس کی پیشی کیلئے میں بھی ایک دفعہ مولانا صاحب کے ساتھ جھنگ گیا یہ مولوی صاحب کا آخری سفر تھا اور دوران سفر حضرت مولانا صاحب بے حد مہمان نواز ثابت ہوتے تھے۔گو گھر میں بھی بے حد فراخ طبیعت کا مظاہرہ کرتے تھے۔مکرم پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب ایم۔اے مرحوم سابق ناظر تعلیم ، وکیل 0 التعلیم ، صدر مجلس کار پرداز تھے نے الفرقان کے بارے میں فرمایا کہ:- الفرقان معیاری اور تحقیقی مضامین کا مجموعہ تھا اور مولانا صاحب کی شخصیت بہت عمدہ اور نفیس تھی۔"