حیاتِ خالد — Page 456
حیات خالد 452 ماہنامہ الفرقان" دوستوں کی نظر نہ پڑے۔جہاں تک الفرقان کی تعداد طباعت کا سوال ہے یہ تعداد بہت زیادہ نہ تھی۔مختلف اندازوں کے مطابق ایک ہزار سے شروع ہو کر آخری سالوں میں چار ساڑھے چار ہزار کے درمیان رہی۔لیکن اپنے علمی معیار کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ حضرت مولانا اس بات کا اہتمام فرماتے تھے کہ یہ رسالہ ملک کے زیادہ سے زیادہ مذہبی اخبارات ادارہ جات اور بالخصوص لائبیریوں کو ضرور بھجوایا جائے خواہ مفت ہی بھجوانا پڑے، اس رسالہ کا حلقہ قارئین بہت وسیع تھا اور یہ اپنے وقت کی ایک زور دار اور مؤقر آواز سمجھا جاتا تھا۔مجلس ادارت اس قدر علمی رسالہ متقاضی تھا کہ مولانا صاحب کے ساتھ ایک پوری ٹیم کام کرے چنانچہ وقتاً فوقتاً مولانا صاحب کے ساتھ جو مختلف علمائے سلسلہ بطور نائب مدیر، معاون مدیر یا ممبر مجلس ادارت کے طور پر کام کرتے رہے ان کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں۔ا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب۔۲۔مکرم چوہدری محمد شریف صاحب خالد ایم اے۔- حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لاکپوری۔۴۔مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف۔مکرم جناب مسعود احمد خاں صاحب دہلوی۔۲۔مکرم جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق۔ے۔مکرم جناب حکیم خورشید احمد صاحب شاد - - مکرم شیخ مبارک احمد صاحب فاضل۔محترم عطاء الحجيب صاحب را شد - ۱۰- مکرم عطاء الکریم صاحب شاہد۔۱۱۔مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد۔۱۲۔مکرم صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب یہ لوگ پہلے ادارہ تحریر کے رکن بنے، پھر نائب ایڈیٹر ان اور پھر ساتھی ایڈ میٹران بھی رہے اور مولانا کے ساتھ اس جہد مسلسل میں ہاتھ بٹاتے رہے۔الفرقان کا ایک مقبول ترین سلسلہ شذرات کے عنوان سے شائع ہوتا رہا۔اس میں شذرات مختلف مسائل پر روشنی ڈالی جاتی رہی لیکن بہائیت اور عیسائیت اس کے خاص موضوعات تھے ان کے علاوہ حضرت مولانا صاحب کے پاس جو دوسرے بہت سے رسالہ جات اور اخبارات آتے تھے ان میں سے بھی تراشے اور بحوالہ اقتباسات دیئے جاتے۔بعض اوقات خاص اقتباسات کو بلا تبصرہ بھی شائع کیا جاتا اور بعض اوقات مختصر فقرات میں، مگر احسن رنگ میں جواب بھی دے دیتے۔آپ کا لہجہ نہایت شستہ اور ادب کے دائرہ میں ہوتا اور ہمیشہ نرم خوئی آپ کے مزاج کی