حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 434 of 923

حیاتِ خالد — Page 434

حیات خالد 430 ماہنامہ الفرقان چنانچہ الفرقان میں اسلام کے بارے میں بہت سے مضامین شائع ہوئے ، اسلام کی تعلیم ، اصول اور تربیت ، دیگر مذاہب سے اسلام کا موازنہ، احادیث نبویہ، مسائل اسلام اور ان کا حل ، نماز اور اس کے مسائل روزہ کے مسائل، حج کے تقاضے ، زکوۃ وغیرہ غرضیکہ ہر ایک اہم موضوع پر روشنی ڈالنے والے مضامین کثرت کے ساتھ الفرقان کے اس چھبیس سالہ دور میں شائع ہوتے رہے۔اسلامی نماز اور اس کا فلسفہ کے موضوع پر الفرقان اپریل ۱۹۶۹ء کے شمارے میں بہت ہی خوبصورت مضمون شائع ہوا۔"رمضان المبارک کے مسائل“ کے عنوان سے دسمبر ۱۹۶۷ء کے الفرقان میں مولانا ابوالعطاء صاحب کا اپنا مضمون شائع ہوا۔زکوۃ اور صدقہ کے بارے میں ایک پر مغز مضمون محترم سید زین العابدین صاحب کا زکوۃ صدقات کے متعلق اسلامی احکام کی امتیازی خصوصیات کے عنوان سے اگست ۱۹۵۸ء کے شمارے میں شائع ہوا۔اس کے علاوہ حج بیت اللہ کے دوران قبولیت دعا کا ایک واقعہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا الفرقان ۱۹۷۲ء میں شائع ہوا ہے۔”جہاد نمبر“ کے نام سے موسوم شمارہ جون ۱۹۶۶ء میں جہاد کی حقیقت کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔پھر اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے؟ اس کی حقیقت بہت سے مضامین کھولتے ہیں جن میں ایک اہم مضمون ابوالحسن صاحب ندوی کا ہے جو اپریل ۱۹۵۹ء کے شمارے میں شائع ہوا۔دراصل یہ مقالہ الفرقان لکھنو کی فروری ۱۹۵۹ء کی اشاعت میں شائع ہوا اور بعض مکر رحصوں کو چھوڑ کر مولانا نے لفظ بلفظ وہی مقالہ دنیائے اسلام ارتداد کی پہروں کی لپیٹ میں“ کے عنوان سے شائع فرمایا۔اس کے علاوہ جن مختلف اور متنوع موضوعات پر مولانا نے الفرقان میں مضامین شائع فرمائے۔ان میں قابل ذکر قتل مرتد ، اسلام کا اقتصادی نظام اور سود کے رد میں کئی اہم مضامین، اسلام میں نظام خلافت، اسلام اور اشتراکیت، یتیم پوتے کی وراثت کا حق، پردہ، اجتہاد، عیدین، اسلامی نظام حکومت مختلف ممالک میں ، تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں (امریکہ، جرمنی، افریقہ اور انڈونیشیا وغیرہ) مستشرقین کا اسلام کے بارے میں نظریہ، اسلام اور آزادی مذہب ، شب برات کی حقیقت، اسلام اور داڑھی ہیں غرضیکہ مختلف اسلامی " ا مسائل کو احسن رنگ میں حل کیا گیا ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب احمدیت کے بطل جلیل تھے اور فدائیان سلسلہ میں ان کا احمدیت نام جلی حروف میں آتا ہے۔آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قلمی ، لسانی، جسمانی، مالی اور وقتی لحاظ سے جماعت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنی