حیاتِ خالد — Page 378
حیات خالد 370۔ممالک بیرون کے اسفار لئے کارکنوں کو دودن کی اکٹھی چھٹی ہو جاتی ہے اور وہ ان دنوں کو سیر و تفریح میں گزارتے ہیں۔ایرانیوں کی بہت بڑی اکثریت شیعہ ہے مگر دوسرے مذاہب ، زرتشتی، ایرانیوں کا مذہبی جذبہ یہودی، عیسائی و غیر ہم اور دیگر فرقوں کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔حکومت کا ایسا رویہ ہے کہ باہم مذاہب و فرقوں میں عملی چپقلش نہیں ہوتی۔سب لوگ اپنے اپنے مذہب سے سروکار رکھتے ہیں اور اپنے کاروبار میں مصروف رہتے ہیں۔شیعہ صاحبان حضرت امام مہدی کیلئے شدت سے چشم براہ ہیں وہ زیادہ تر امام غائب کا انتظار کر رہے ہیں۔اس بارہ میں ایران میں کتا بیں بکثرت شائع کی جارہی ہیں۔علاء کی طرف سے تلقین ہوتی ہے کہ ہر شخص جب امام غائب کا ذکر کرے تو عجل الله فرجة كادعائیہ فقرہ ضرور کہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں جلد ظاہر فرمائے۔وہ یہ دعا صدیوں سے مانگ رہے ہیں۔جب عوام میں ایک رنگ کی مایوسی ہونے لگتی ہے تو پھر ہوشیار لوگوں کی طرف سے کوئی تحریک جاری کر دی جاتی ہے۔مساجد بھی امام الزمان علیہ السلام کے نام پر تعمیر ہوتی ہیں۔ایران میں بزرگان سلف کے مزار بھی کافی ہیں اور ہر مزار پر سینکڑوں ہزاروں مرد و عورتیں جمع ہوتے ہیں اور سجدے کرتے ہوئے دعائیں مانگتے ہیں اس حالت کو دیکھ کر درد دل سے اللَّهُمَّ ارْحَمْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم کی دعا نکلتی ہے۔میں نے شہر رے میں شاہ عبد العظیم مرحوم کے مزار پر اور شہر تم میں سیدہ مریم معصومہ مرحومہ کے مزار پر اس قسم کے نظارے مشاہدہ کئے ہیں۔۱۵ار جولائی کو عزیزم نثار احمد صاحب کی موٹر میں اخویم محمد افضل صاحب اور دیگر شہر قم کی زیارت رفقاء کے ساتھ تم گئے۔راستہ میں کافی علاقہ بنجر نظر آیا۔ہر جگہ تیل نکالنے والی کمپنیاں مصروف کار دکھائی دیتی ہیں۔بڑی بڑی عمارتیں تیار کر رکھی ہیں۔راستہ میں اور شہر قم میں خاصی گرمی تھی یہ سو (۱۰۰) میل کے لگ بھگ فاصلہ ہے۔تم میں دار التبلیغ اسلامی قائم ہے۔بڑی عمدہ اور وسیع عمارت ہے اس جگہ مختلف ممالک کے شیعہ طلباء اپنی مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔لائبریری بھی موجود ہے ہم جب وہاں پہنچے تو چھٹی ہو چکی تھی۔سب طلباء سیاہ چوغہ اور سیاہ عمامہ پہنتے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ درس میں شمولیت کیلئے یہ لباس لازمی شرط ہے۔طلباء میں پاکستان کے بعض طالب علم بھی موجود تھے۔طلباء کے اخراجات کا ادارہ کی طرف سے انتظام ہوتا ہے۔تم شہر صاف ستھرا قدیمی شہر ہے۔بتایا گیا کہ قم کی شہرت اس وجہ سے ہے کہ دوسرے علاقوں کیلئے یہاں سے علماء بھیجے جاتے ہیں اور دوسرے شہروں سے مردے دفن کرنے کیلئے تم لائے جاتے ہیں۔