حیاتِ خالد — Page 368
حیات خالد 368 ممالک بیرون کے اسفار دیکھا ایک سکھ سردار صاحب کسی کو تلاش کر رہے ہیں وہ میری طرف بڑھے اور پوچھا کہ آپ ہی میاں محمد افضل صاحب کے پاس تہران جانے والے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔وہ کہنے لگے کہ موٹر کھڑی ہے آپ اس میں تشریف رکھیں پہلے شہر چلیں گے۔میں نے کہا کہ پہلے تہران جانے کیلئے ٹکٹ کا انتظام کر لیا جائے کیونکہ آفس والے بتاتے ہیں کہ کوئی سیٹ باقی نہیں۔سردار جو گیندر سنگھ نے جو زاہدان کے بڑے تاجر ہیں اور چکوال سے ان کا کنبہ سالہا سال سے وہاں آباد ہے مجھے کہا کہ بہت اچھا میں ٹکٹ کا انتظام کر لیتا ہوں۔انہوں نے Air Iran کے جنرل مینیجر کو ان کے گھر فون کیا اور چند منٹ کے بعد بتایا کہ اللہ کے فضل سے ٹکٹ مل جائے گا۔ہم درمیانی وقفہ کیلئے زاہدان چلے گئے۔عمدہ شہر ہے اور کافی نئی تعمیرات شروع ہیں۔تمام گاڑیوں کیلئے ہدایت ہے کہ دائیں ہاتھ چلیں نیز ہر موٹر پر اس کا نمبر عربی ہندسہ میں ضرور درج ہوتا ہے اگر کسی ضرورت کے لئے انگریزی عدد لکھنے ضروری ہوں تو عربی ہند سے اوپر لکھے جائیں گے۔عمارتوں وغیرہ پر بھی اعداد کے لکھنے کا یہی طریق سارے ایران میں جاری ہے۔فارسی زبان کا استعمال مقدم اور لازمی ہے۔مجھے زاہدان سے ہی یہ احساس ہو گیا کہ ایران میں قومی اور ملکی زبان کا بہت لحاظ ہے جو ہر لحاظ سے قابل تقلید ہے۔سردار جو گیندر سنگھ صاحب سارا وقت میرے ساتھ رہے ان کی دکان بند رہی۔انہوں نے میری ہر سہولت کا خیال رکھا کھانا ہم نے ایک اعلیٰ درجہ کے ہوٹل میں کھایا۔سردار صاحب میرے جہاز کی روانگی کے بعد واپس شہر گئے۔ہوائی جہاز درمیان میں ایک ہی جگہ رکتا تھا۔اور وہ مشہد کی ائیر پورٹ تھی۔آج یہ ائیر پورٹ بہت عمدہ بنی ہوئی تھی۔ہوائی بندرگاہ کے پاس ہی ایک وسیع باغ میں ایران و ہندوستان کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ آج یہاں بھارت کے صدر فخر الدین علی احمد دورہ پر آئے تھے۔وہ ان دنوں ایران کے دورہ پر ہیں۔مشہد کا شہر بہت صاف ستھرا ہے نہایت خوب صورت بنا ہوا ہے یہاں پر حضرت امام رضا علیہ السلام کا مزار ہے جس کیلئے زائرین دور دراز سے آتے ہیں۔تہران میں نزول سات بجے شام کے قریب جہاز تہران کے مستقر پر اُترا۔یادر ہے کہ ایران کا وقت پاکستان کے وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ پیچھے ہے۔گویا پاکستانی وقت کے لحاظ سے میں ساڑھے آٹھ بجے تہران میں پہنچا تھا۔عزیزم میاں محمد افضل صاحب، سید عاشق حسین صاحب، چوہدری نعمت علی صاحب، عزیزم نثار احمد صاحب اور دیگر متعدد احباب ائیر پورٹ پر موجود تھے چونکہ زاہدان میں سامان دیکھ لیا گیا تھا اس لئے تہران کے ائیر پورٹ سے فور آروانگی ہو گئی۔