حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 311 of 923

حیاتِ خالد — Page 311

حیات خالد 310 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام انگلستان سے میری واپسی ۱۹۳۵ء میں ہوئی اس وقت مولانا مرحوم فلسطین میں حیفا کے پاس کبابیر میں مقیم تھے ان سے ملاقات اور بلا دعربیہ کی سیر کے لئے میں ایسے جہاز سے روانہ ہوا جو سکندریہ ہوتے ہوئے حیفا جانے والا تھا۔چنانچہ وہاں قدیمی دوست سے ملاقات ہوئی۔چند دن ان کے ساتھ رہا اور ان کے کام کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ انہوں نے کس طرح ہمہ تن مصروف رہ کر اور جد و جہد کر کے شاندار کام کیا ہے۔مرحوم بھائی نے ہر وہ تاریخی چیز دکھائی جو دیکھنے کے لائق تھی۔چنانچہ ہم دونوں نے دیوار گریہ بھی دیکھی اور ناصرہ کی بستی بھی جہاں حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔وہاں سے میرا پروگرام خشکی کے راستے دمشق اور بغداد ہوتے ہوئے بصرہ سے جہاز پر سوار ہونے کا تھا۔اخویم محترم حضرت مولانا دمشق تک میرے ساتھ آئے اور مجھے عراق کی ایک بس سروس کے ذریعے بغداد کے لئے روانہ کر کے واپس ہوئے۔اللہ تعالیٰ میرے مرحوم بھائی کو جزائے خیر دے۔آمین ،، ( الفضل ۲۲ جون ۱۹۷۷ء صفحهیم ) حسنِ تدبیر محترم ملک صلاح الدین صاحب مؤلف’اصحاب احمد رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب دونوں حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے۔دونوں میدان مبارزت کے شہسوار تھے اور لسان و قلم کے دھنی۔کوئی حریف ان کے مقابل پر نہیں ٹھہر سکتا تھا۔دیگر اعلیٰ مجاہدین کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے دونوں کی تقریر وتحریر میں برکت و تا شیر ودیعت ہوئی تھی۔حضرت شمس صاحب جماعت احمد یہ فلسطین کے بانی تھے۔جو شخص کسی جماعت کا قائم کرنے والا ہوتا ہے اس کے افراد کو اس سے والہانہ محبت اور گہری عقیدت ہوتی ہے۔جب حضرت مولانا ابو العطاء صاحب ، حضرت شمس صاحب کے بعد وہاں متعین ہوئے تو خاکسار کے علم کے مطابق ان کے خلا کو اپنی دعاؤں، علمیت اور حسن تدبر اور حسن اخلاق سے آپ نے محسوس نہیں ہونے دیا۔اس وقت یہ جماعت معدودے چند احباب پر مشتمل تھی۔جن کے ذرائع بھی محدود تھے۔آپ نے ان سے پوری طرح استفادہ فرمایا۔فرماتے تھے کہ جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں ایک دفعہ ایک ٹریکٹ وہاں شائع کیا گیا۔مجھے خدشہ تھا کہ مخالف مسلمان حکومت کے ذریعہ اس کی ضبطی کی کوشش کریں گے۔اس کا حل آپ نے یہ نکالا کہ اس کے شائع ہوتے ہی جلد از جلد اسے ڈاک کے ذریعے بھجوا کر اس کی