حیاتِ خالد — Page 30
حیات خالد 32 ابتدائی خاندانی حالات مکرم بشیر الدین احمد سامی صاحب مرحوم آف لندن نے تحریر فرمایا: - خاکسار کے والد محترم سردار مصباح الدین صاحب سابق استاذ جامعہ احمد یہ بتایا کرتے تھے کہ مولانا ابوالعطاء صاحب جب عالم شباب میں تھے اور تعلیم کے مراحل تیزی سے طے کر رہے تھے تو قادیان میں ان کے والد مرحوم حضرت میاں امام الدین صاحب نے راہ چلتے ہوئے انہیں اچانک روک لیا اور اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ سردار صاحب میرے بیٹے کا خاص خیال رکھا کریں تا کہ یہ پڑھ لکھ کر احمدیت کا روشن ستارہ ہے“۔جب حضرت منشی امام الدین صاحب نے احمدیت قبول کی تو والد صاحب کی استقامت آپ کو بھی سخت نا مساعد اور مشکل حالات سے گزرنا پڑا لیکن کسی مرحلہ پر بھی آپ کے پایہ ثبات میں لغزش نہیں آئی۔اس ایمان افروز دور کا کچھ انداز و درج ذیل امور سے لگایا جاسکتا ہے۔جب حضرت منشی امام الدین صاحب احمدیت قبول کرنے کے جرم میں گھر سے نکالے گئے تو آپ نے اسی گاؤں کے دوسرے حصہ میں مکان لے کر رہنا شروع کر دیا۔جماعت احمد یہ کریام کے سرکردہ رکن حضرت حاجی غلام احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے جب یہ درد ناک حالات دیکھے کہ حضرت منشی صاحب کو ان کے والد نے جائیداد منقولہ و غیر منقولہ سے عاق کر دیا ہے حتی کہ بہو کے زیور تک اتر والئے ہیں اور معمولی دکان سے گھر کا گزارہ بہت مشکل سے چل رہا ہے تو انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے گاؤں کے خالی پوسٹ آفس میں ملازمت دلوادی جس کی تنخواہ اس وقت 4 روپے ماہوار تھی۔یہ سخت مالی تنگی کے حالات تھے۔حضرت مولانا کی والدہ محترمہ کی وفات ۱۹۳۷ء میں ہوئی تو مولانا نے والد صاحب کا ذکر خیر الفضل میں ایک مضمون اپنی والدہ محترمہ کی یاد میں لکھا۔اس کے ابتدائی حصہ میں آپ نے اپنے والد محترم کا ذکر ان الفاظ میں کیا۔در پینتیس برس گزرے جب میرے والدین نے خدا کے بچے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا اور حضور کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہوئے۔میرے دادا اپنے گاؤں کر یہا ضلع جالندھر میں ایک عالم سمجھے جاتے تھے۔وہ والد صاحب رضی اللہ عنہ کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے پر بہت برافروختہ ہوئے۔سب و شتم اور مار پیٹ کے بعد والدہ صاحبہ سے زیورات چھین کر ان دونوں کو گھر سے نکال دیا۔مکانات سے بے دخل کر دیا اور لوگوں کو مکمل بائیکاٹ کرنے کی تلقین کی۔یہ ون