حیاتِ خالد — Page 285
حیات خالد 284 اگست ۱۹۳۱ء کو دار التبلیغ کا چارج لیا۔اس پر محترم مولا نائٹس صاحب مرحوم مصر سے ہوتے ہوئے قادیان کیلئے روانہ ہوئے۔اس وقت بھی جذبات کا ایک خاص تلاطم تھا۔فلسطین کے احمدی احباب نے بے مثال محبت سے تعاون فرمایا اور پانچ سالہ تبلیغی دور بخیر و خوبی ختم ہوا۔فالحمد لله أولا و اجرا وَهُوَ خَيْرُ الْمُحْسِنِيْنَ (الفرقان ربوہ اگست ۱۹۷۴ء) فلسطین مشن از یکم اپریل ۱۹۳۲ء تا ۳۱ مارچ ۱۹۳۳ء ) مختلف مقامات پر حضرت مولانا کے قیام فلسطین ، مصر و غیرہ کی کچھ شائع شدہ رپورٹیں ذیل میں پیش ہیں۔سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد به ۳۳-۱۹۳۲ صفحہ ۱۵ تا ۱۵۵ پر ذیل کی رپورٹ درج ہے۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس سال بلا د عر بیہ میں سلسلہ کیلئے نہایت امید امید افزا حالات افزا حالات پیدا ہوئے ہیں اور تبلیغ کے بہت سے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔اخبارات کی مخالفت یا تعریف سے ظاہر ہے کہ سلسلہ کی اہمیت کو محسوس کیا جا رہا ہے۔ہر طبقہ کے لوگوں میں سلسلہ احمدیہ کی خدمات کا اعتراف ہونا شروع ہو گیا ہے۔شیخ العروبہ احمد ز کی باشا نے مولوی اللہ دتا صاحب سے کہا کہ در حقیقت عیسائیت کی بڑھتی ہوئی رو کا مقابلہ صرف آپ کی جماعت ہی کر سکتی ہے۔ایک غیر احمدی دوست نے کہا کہ آپ لوگوں کی بہترین تنظیم اور غیر معمولی جدو جہد کے پیش نظر میرا تو یہ خیال ہے کہ عنقریب دنیا کی حکومت احمدیوں کے قبضہ میں ہوگی۔حالات کے امید افزا ہونے کا اس سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ علماء اور مشائخ کے طبقہ میں غیر معمولی ہیجان پایا جاتا ہے۔مخالفانہ مضامین کے علاوہ قتل کے فتوے اور احمدیوں کو دکھ دینے کے منصوبے کئے جارہے ہیں۔حکومتوں کو ان کے خلاف بھڑکا یا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور اس سے واضح ہے کہ دشمن احمدیت کی طاقت سے رہا خوف کھا رہا ہے۔اس سال ۱۳۳ اشخاص داخل سلسلہ ہوئے ہیں (گزشتہ سال تعدا د لو مساکین ۲۵ تھی ) اس نو مبا تعین سال کی زیادتی ہوئی ہے۔فالحَمْدُ لِلَّهِ علی ذالک۔ان تو سائین میں سے ایک بزرگ عالم ہیں جو اپنے سلسلہ میں پیشوا مانے جاتے تھے ، ایک اخبار نویس ہیں، ایک دوست متعدد رسالوں کے مصنف ہیں، ایک کالج کے طالبعلم ہیں، بعض تاجر اور بعض زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے