حیاتِ خالد — Page 284
حیات خالد 283 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام بے قابو ہو گئے اور آنکھوں سے آنسوؤں کا دھارا رواں ہو گیا۔دعائیں کرتے ہوئے سفر جاری رکھا۔بٹالہ، امرتسر اور لاہور میں احباب جماعت سٹیشنوں پر الوداع کہنے کیلئے موجود تھے۔رات لاہور میں بسر کی اور علی اصبح کراچی کیلئے روانہ ہوا۔مختلف سٹیشنوں پر احباب دعاؤں کے ساتھ ، محبت سے نمناک آنکھوں سے رخصت کرتے رہے۔ریل کے دوسرے مسافران مناظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوتے رہے اور تبلیغ کے مواقع پیدا ہوتے رہے۔کراچی ریلوے سٹیشن پر بھی احباب موجود تھے۔بحری جہاز کی روانگی دوسرے دن تھی۔احباب جماعت نے درمیانی شب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خالقدینہ ہال میں میری ایک تقریر کا اعلان کر رکھا تھا۔ہال بھرا ہوا تھا مگر بعض معاندین جن میں میرے ایک مخالف چا بابو رحمت اللہ صاحب بھی شامل تھے اس نیت سے آئے تھے کہ جلسہ میں گڑ بڑ پیدا کی جائے اور فساد ہو جائے اور یہ دوسرے روز جہاز پر روانہ نہ ہو سکے۔الحمد للہ تقریر بخیر و خوبی ہو گئی۔سوالات کے وقت کچھ شور و شر ہوا نگر پولیس کے بہتر انتظام کے باعث مخالفین اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسرے روز بحری جہاز میں روانگی ہوگئی اور احباب نے بندرگاہ پر بڑی محبت اور پر خلوص دعاؤں سے رخصت کیا۔جَزَاهُمُ اللهُ احْسَنِ الْجَزَاءِ جہاز بصرہ جارہا تھا قریباً چھ روز مختلف بندرگاہوں پر ٹھہرتا ہوا یہ جہاز بصرہ کی بندرگاہ پر پہنچا۔وہاں بھی احمدی دوست موجود تھے۔وہاں سے بغداد کیلئے روانگی ہوئی۔جہاں محترم الحاج عبداللطیف صاحب مرحوم مشہور احمدی تاجر کے ہاں چند روز قیام رہا۔احباب جماعت اور دوسرے دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔بغداد سے بذریعہ موٹر کار دمشق کیلئے روانہ ہوا۔وہاں سے احباب کی ملاقات کے بعد بیروت پہنچا۔لبنان کی جنوبی سرحد پر قرنطینہ کی پابندی کے باعث کچھ دیر ٹھہرنا پڑا۔وہاں سے فراغت کے بعد حیفا پہنچا۔وہاں بھی قرنطینہ کے باعث چند دن احتیاطاً باہر ٹھہرایا گیا۔اس دوران احباب جماعت حضرت مولانا شمس صاحب مرحوم کی معیت میں احاطہ کے باہر سے ملاقات کرتے رہے۔یہ دن بھی بڑے پر لطف تھے۔میری نا تجربہ کاری تھی۔یہ میرا پہلا بیرونی سفر تھا اور ہر مرحلہ پر دقت پیدا ہو رہی تھی دعاؤں کا بہت اچھا موقعہ ملا۔آخر دس دن کے اس سفر کا خاتمہ بہت ہی خوشگوار صورت میں ہوا اور میں احمد یہ دارا تبلیغ بلا عربیہ میں بخیریت پہنچ گیا۔حضرت مولانا شمس صاحب کے ذریعہ کام کی نوعیت اور تفصیلات کا تعارف ہوا۔احباب جماعت سے واقفیت حاصل ہوئی اور آخر