حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 25 of 923

حیاتِ خالد — Page 25

حیات خالد 27 ابتدائی خاندانی حالات خاندانی حالات حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے حد فعال اور متحرک تمہید زندگی میں بے شمار مضامین لکھے متعدد کتب مرتب فرما ئیں جن میں تفہیمات ربانیہ جیسی ضخیم کتاب بھی شامل ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی مثیت میں یہ بھی شامل ہوتا کہ آپ کے قلم سے آپ کی اپنی زندگی کے حالات پر مبنی کتاب بھی شائع ہو جاتی تو دلچسپ اور ایمان افروز کتابوں کی فہرست میں یقیناً ایک اور نادر کتاب کا اضافہ ہو جاتا اور آج قارئین کرام کو میری تحریر پڑھنے کی بجائے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی خوبصورت اور پر تاثیر تحریر پڑھنے کو ملتی۔لائق صد شکر ہے یہ بات کہ حضرت مولانا نے اپنی زندگی کے آخری دس سالوں میں اس جانب توجہ بھی فرمائی اور اکتوبر ۱۹۶۷ء کے الفرقان سے آپ نے حیاۃ ابی العطاء کے نام سے " میری زندگی۔چند منتشر یادیں“ کے زیر عنوان قسط وار یہ خوبصورت سلسلہ شروع بھی کیا مگر آپ کی بے پناہ مصروفیات اور خدمت دین کے مختلف تقاضوں نے آپ کو اپنی ذاتی زندگی کے حالات مدون کرنے کی مہلت نہ دی۔آخری دس سالوں میں آپ نے اس سلسلہ کی کئی قسطیں الفرقان کے مختلف شماروں میں تحریر فرما ئیں مگر یہ سلسلہ بڑی حد تک نامکمل ہی رہا اور ابتدائی حالات سے آگے نہ بڑھ سکا۔تا ہم آپ نے جو کچھ اپنے قلم سے خود تحریر فرمایا ہے بلا شبہ وہ حضرت مولوی صاحب کی سوانح کے بارے میں سب سے اہم اور مستند بنیادی ماخذ ہے۔لہذا حضرت مولانا کے ابتدائی خاندانی حالات، آپ کی ولادت باسعادت اور آپ کے خوش نصیب خدا رسید و والدین کے بارہ میں آپ کی اپنی تحریر سے اس باب کا آغاز کرتا ہوں۔آپ حیاۃ ابی العطا ء کی پہلی قسط میں "میری زندگی۔چند منتشر یاد میں" کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں:۔ہمارا گاؤں کر یہاں تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر میں ہنگہ اور نواں شہر کے درمیان ریلوے اسٹیشن ہے۔یہ گاؤں کر یام سے دو اڑھائی میل کے فاصلے پر ہے۔کریام میں بڑی تعداد میں احمدی احباب تھے۔ایک خاصی جماعت تھی۔میرے والد صاحب مرحوم اپنے گاؤں میں اکیلے احمدی تھے۔والد صاحب مرحوم جمعہ کی نماز کیلئے بلا ناغہ کر یام جایا کرتے تھے۔حضرت حاجی چوہدری غلام احمد صاحب امیر جماعت کر یام سے ان کے نہایت محبانہ اور برادرانہ تعلقات تھے۔