حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 256 of 923

حیاتِ خالد — Page 256

حیات خالد 262 مناظرات کے میدان میں اس بہائی مبلغ نے قرآن شریف کی آیتیں پڑھنی شروع کیں تو حضرت مولانا نے اس بہائی سے کہا کہ میرے سامنے قرآن شریف کی آیات غلط پڑھنے کی کوشش نہ کریں۔خیر گفتگو جاری رہی۔تھوڑی دیر کے بعد ہی بہائی مبلغ گھبرا گیا اور اس کا منہ خشک ہو گیا۔وہ بار بار ہونٹوں پر زبان پھیر نے لگا اور لا جواب ہو گیا۔حضرت مولانا کے سامنے عاجز آ گیا۔وہ غیر احمدی مولوی صاحب اس بہائی کو کہنے لگے ہماری تو آپ پیش نہیں جانے دیتے تھے۔اب آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ بار بار ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگے ہیں۔سب گاؤں والے بھی اور وہ غیر احمدی مولوی بھی کہنے لگا واقعی مولا نا جالندھری جس طرح ہم سنتے تھے اسی طرح کے ہیں۔گاؤں والوں کو پہلے ہی پتہ تھا کہ بہائیوں کو جواب مولانا اللہ دتا صاحب ہی دے سکتے ہیں۔اسی طرح ایک اور واقعہ یوں ہے کہ ایک دفعہ تین چار بہائی ہمارے گاؤں آئے۔یہاں سے ہو کر وہ قادیان چلے گئے۔میں ان کے پیچھے پیچھے تھا کہ دیکھوں یہ کہاں جاتے ہیں۔ہوتے ہوتے وہ مسجد مبارک پہنچ گئے میں بھی ساتھ پیچھے پہنچ گیا۔اس وقت نماز عصر کا وقت تھا۔حضرت مصلح موعود نماز پڑھا کر بیٹھے ہوئے تھے کہ بہائی وہاں پہنچ گئے۔ان بہائیوں نے کہا کہ ہم آپ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔حضور نے کہا بیٹھئے۔حضور نے ان بہائیوں سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم ایران سے آ رہے ہیں۔مجھ سے نہ رہا گیا میں جھٹ کھڑا ہو گیا اور حضور کو بتایا کہ حضور ! یہ لوگ تو ہمارے عالم کو ملنے کی اجازت نہیں دیتے اور حضور کا وقت ضائع کرنے یہاں آگئے ہیں۔یہ لوگ دراصل ہمارے گاؤں کڑی سے آئے ہیں۔حضور نے دریافت فرمایا کڑی افغاناں سے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں حضور وہیں سے۔اس پر حضور نے ان کو کہا کہ آپ لوگ پہلے مولوی اللہ دتا صاحب سے ملیں۔اگر ان سے تسلی نہ ہو تو آپ مجھ سے مل سکتے ہیں۔حضرت مولانا پانچ دفعہ ہمارے گاؤں میں بہائیوں سے گفتگو کرنے آئے“۔0 مکرم مولا نا عبد الباسط صاحب شاہد سابق مبلغ ممالک مشرقی افریقہ لکھتے ہیں۔استاد مرحوم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری زمانہ طالب علمی سے ہی مضمون نویسی اور تقریر کے علاوہ اپنے مناظروں کی وجہ سے بھی نمایاں مقام حاصل کر چکے تھے۔آپ اپنے اس زمانہ کے مناظروں کی دلچسپ اور معلومات افزاء روئیداد اور خدائی تائید کے واقعات ہم طالبعلموں کو سنایا اور ) کرتے تھے۔آپ نے ہمیں بتایا کہ ایک مناظرہ کیلئے جاتے ہوئے جب آپ گاڑی میں سوار ہوئے تو