حیاتِ خالد — Page 251
حیات خالد 25۔7 مناظرات کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کوز بر دست قدرت کلام عطا کی تھی۔چند منٹوں شاندار قدرت کلام میں ہوا کا رخ بدل کر رکھ دینا آپ کا خاص وصف تھا۔گجرات کے مباحثہ فروری ۱۹۲۸ء کے سلسلہ میں الفضل کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔پادری صاحب نے دل کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (فداه أبى و ابنی ) پخش اور گندے حملے کئے اور یہ اس لئے کہ غیر احمدی پبلک کو جوش دلایا جائے۔مگر ہمارے فاضل مناظر نے اپنی پہلی ہی دس منٹ کی تقریر میں مناظرہ کا رنگ بدل دیا۔(الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء) انداز گفتگو محترم مولا نار وشن الدین احمد صاحب واقف زندگی رقم فرماتے ہیں۔آپ ما شاء اللہ مناظرہ کرنے کے دھنی تھے۔اس کا آپ کو خاص شوق تھا اور دشمن کو جواب دیتا خوب آتا تھا۔دشمن پر ہمیشہ چھا جایا کرتے تھے اور کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مخالف جواب نہ پا کر بے ساختہ بلبلا اٹھتا۔آپ گفتگو میں قرآن مجید اور احادیث سے استدلال کیا کرتے تھے۔مختصر الفاظ مگر ایسی دلر بائی سے دشمن پر چوٹ کرتے تھے کہ اسے فرار کے علاوہ کوئی راہ دکھائی نہ دیتی تھی۔پھر گفتگو میں ہمیشہ سنجیدگی اور متانت ہوتی جو لا جواب ہوا کرتی تھی۔فی الحقیقت ایسی گفتگو کرنے کا ملکہ آپ کو خدا تعالیٰ نے خاص طور پر عطا فر مایا تھا۔علمی قابلیت خدا کے فضل و کرم کے بعد حضرت مولانا کی علمی قابلیت مناظروں میں ان کی کامیابی کی بڑی وجہ تھی۔۳۱ مارچ ۱۹۴۰ء کو گوجرانوالہ میں غیر مبائعین سے جو مناظرہ ہوا اس کے بارے میں لکھا ہے۔در مجلس مناظرہ میں کچھ غیر احمدی بھی شامل ہوئے تھے۔جنہوں نے جناب مولوی ابوالعطاء صاحب کی علمی قابلیت اور صحیح اور شستہ حاضر جوابی کی تعریف کی۔(افضل و ر ا پریل ۱۹۴۰ صفحه ۶) ۲ رد کمبر ۱۹۴۴ء کو موضع گوہد پور ضلع گورداسپور میں اہل سنت والجماعت کے ساتھ مناظرے میں یہ شرط تھی کہ مناظر مولوی فاضل ہو اور اپنی سند دکھا کر مناظرہ کرے ورنہ ۲۰۰ روپیہ جرجانہ ادا کرے۔مخالفین کوئی مولوی فاضل مناظر پیش نہ کر سکے۔ذیلدار علاقہ جو ایک معز رسکھ تھے ان کی سفارش پر حرجانہ معاف کیا گیا۔حضرت مولانا نے شرائط کے مطابق اپنی مولوی فاضل کی سند اور پنجاب یونیورسٹی میں مولوی فاضل کے امتحان میں اول رہنے کا تمغہ دکھایا۔گو یا مناظرہ شروع ہونے سے پہلے ہی مناظرہ (الفضل ۵/ دسمبر ۱۹۴۴ء) جیت لیا۔