حیاتِ خالد — Page 244
حیات خالد 250 مناظرات کے میدان میں جناب مولوی صاحب نے نہایت تہذیب و شرافت سے مناظرہ کیا ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کہی جو ہمارے مسلمات کے خلاف ہو۔مناظرہ کے اختتام پر مسلمانوں نے تکبیر اور اسلام زندہ باد کے نعرے بلند کئے۔احباب جماعت نے واپسی پر کئی ہندو صاحبان کو آپس میں یہ گفتگو کرتے سنا کہ نیوگ کا بیان ستیارتھ پر کاش میں سے نکال دینا چاہئے۔اس کی وجہ سے ذلیل ہونا پڑتا ہے کئی مسلمان عاجز کے کوارٹر پر جہاں جناب مولوی صاحب قیام فرما تھے مبارک باد پیش کرنے کیلئے تشریف لائے اور دیر تک گفتگو کرتے رہے۔بعض ہندو نو جوان بھی اس وقت آئے اور اس سلسلہ میں مزید مطالعہ کا اشتیاق ظاہر کیا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اس تقریب کو دلوں کیلئے ہدایت کا موجب بنائے۔خاکسار - عبد الحمید۔سیکرٹری تبلیغ الجمن احمد یہ نئی دہلی (روز نامه الفضل قادیان ۳۰ / مارچ ۱۹۴۶، بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دہم صفحہ ۳۲۔۶۳۱) ہومیوڈاکٹر مکرم سلطان احمد صاحب مجاهد سابق معلم وقف جدید لکھتے ہیں کہ بطور صدر مناظرہ تالیا ۱۹۴۷ء میں خانقاہ ڈوگراں ضلع شیخوپورہ میں ایک مناظرہ جماعت احمد یہ اور اہلسنت کے درمیان ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مناظر مولانا عبدالغفور صاحب تھے اور صدر مناظرہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری تھے۔دونوں فریقوں کی طرف سے ایک ایک صدر مناظرہ مقرر ہوا کرتے تھے جن کا مقصد ڈسپلن برقرار رکھنا ہوتا تھا۔حلقہ کے تھانیدار بھی ڈیوٹی پر تھے۔تا کہ کوئی شر پسند شرارت نہ کر سکے لیکن پھر بھی کوئی فتنہ گر بار بار حضرت بانی سلسلہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ بولتا اور نعرے لگواتا۔جس کے جواب میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب صدر کی حیثیت سے مناظر کو خاموش کروا دیتے اور بڑا ٹھوس اور سنجیدہ جواب دیتے اس سے نہ تو فضا خراب ہوتی اور نہ ہی مناظرہ کی کارروائی میں خلل پڑتا۔آپ کی زبان میں ایسا رعب اور دبدبہ تھا کہ مسئلہ فوراً حل ہو جاتا۔حضرت مولانا کا اپنوں اور غیروں پر بڑا کنٹرول تھا۔اپنی صلاحیتوں سے آپ نے اپنوں اور غیروں سب کو کنٹرول کر لیا اور مناظرہ کی کامیابی سے تمام لوگ اچھا اثر لے کر گئے۔محترم پروفیسر سعود اینگلو عر بیک کالج دہلی میں مولانا ابوالعطاء صاحب کا خطاب احمد خان صاحب سابق استاذ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ و جا معہ احمدیہ ) تحریر فرماتے ہیں:۔ہم سب بھائیوں ( محترم مسعود احمد خان صاحب دہلوی سابق ایڈیٹر الفضل محترم مولود احمد