حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 243 of 923

حیاتِ خالد — Page 243

حیات خالد 249 مناظرات کے میدان میں لیکن غیرتمند و ا یہ تو سوچو کہ تھو رام کی بیوی نے لڑکا کس سے حاصل کیا۔نتھو رام سے یا کھڑک سنگھ سے؟ اگر کہو کھڑک سنگھ سے تو پھر نسل نتھو رام کی چلی یا کھڑک سنگھ کی؟ پس عفت اور حیاء کا خون کرنے کے بعد بھی مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ کھڑک سنگھ سے تھو رام کی نسل کیونکر چل سکتی ہے۔یہ فلاسفی ہماری سمجھ سے باہر ہے اس گتھی کو سلجھا دیا جائے۔اس کے بعد پنڈت جی ایسے خاموش ہوئے کہ نسل اور خاندان کے بقاء کی سب اہمیت بھول گئے۔وراثت کے بارہ میں جناب مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں تفصیل دریافت نہیں کرتا وید سے صرف اتنا ہی دکھا دیا جائے کہ لڑکیاں اپنے حصہ کی وارث ہیں اور قانو نا وہ اپنا حصہ لے سکتی ہیں۔طلاق پر اعتراض کے بارہ میں جناب مولوی صاحب نے اسلامی تعلیم کی حکمت اور برتری اچھی طرح واضح فرمائی اور بتایا کہ طلاق کے بعد مرد اور عورت کا کوئی تعلق قائم نہیں رہتا۔پس اس کو نیوگ پر قیاس کرنا حد درجہ کی جہالت ہے کیونکہ نیوگ کی صورت میں میاں بیوی کا تعلق منقطع نہیں ہوتا بلکہ بدستور قائم رہتا ہے۔ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے۔" جب خاوند اولاد پیدا کرنے کے ناقابل ہو۔تب اپنی عورت کو اجازت دے کہ اے نیک بخت ! اولاد کی خواہش کر نیوالی عورت تو مجھ سے علاوہ دوسرے خاوند کی خواہش کر کیونکہ اب مجھ سے تو اولاد نہ ہو سکے گی۔ہو سکے گی۔تب عورت دوسرے کے ساتھ نیوگ کر کے اولاد پیدا کر لے لیکن اس بیا ہے عالی حوصلہ خاوند کی خدمت میں کمر بستہ رہے“۔(صفحہ ۱۲۹) ہمارے اس مطالبہ کا کہ اگر طلاق حقیقی علارج نہیں، تو آریہ ہارم نے مظلوم عورت کی رہائی اور مخاصی کیلئے جو طریق بتایا ہے اسے پیش کیا جائے۔افسوس ہے کہ پنڈت جی نے باوجود ہر بار تقاضا کرنے کے اخیر تک کوئی جواب نہ دیا۔آخر خود ہی جناب مولوی صاحب نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے آریہ دھرم میں سوائے اس کے اور کوئی علاج نہیں جس کا ذکر کلیات آریہ مسافر میں ہے۔کہ ایک مرتبہ پنڈت دیا نند صاحب لیکچر دے رہے تھے کہ ایک کونے میں سے کسی نے سوال کیا کہ اگر کسی عورت کا خاوند بدچلن ہو اور رنڈی کاری اور زنا کاری سے باز نہ آتا ہو تو اس کی عورت کیا کرے۔پنڈت دیانند صاحب نے جواب دیا کہ اس کی عورت کو چاہئے کہ وہ بھی ایک مشٹنڈ اسا مضبوط آدمی اپنے لئے رکھ لئے“۔الحمد للہ کہ یہ مناظرہ بھی پہلے مناظرہ کی طرح نہایت کامیابی کے ساتھ ختم مناظرہ کی کامیابی ہوا۔خود پنڈت رامچند ر صاحب دہلوی نے جو صدر تھے۔اعلان کیا کہ