حیاتِ خالد — Page 241
حیات خالد 247 مناظرات کے میدان میں آریہ سماج نئی دہلی سے ویدک دھرم میں عورت کا مقام پر مناظرہ اس مناظرہ کے بارے میں مکرم عبدالحمید صاحب سیکر دی تبلیغ نئی دہلی نے ذیل کی روداد الفضل میں شائع کروائی۔آریہ سماج دہلی کے سالانہ جلسہ کے بعد آریہ سماج نئی دہلی کا جلسہ تھا ان کی طرف سے ایک چٹھی خاکسار کو موصول ہوئی کہ احمدیہ جماعت کو مناظرہ کیلئے وقت دیا جا سکتا ہے اور خاکسار کو دو مضمون مناظرہ کیلئے لکھ کر بھیج دیئے۔آریہ سماج نئی دہلی نے جواب میں’ و یدک دھرم میں عورت کا مقام کے مضمون پر مناظر و منظور کر لیا۔ہمیں تعجب ہوا کہ ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزار کہ دہلی شہر میں اس مضمون پر مناظرہ کرتے ہوئے آریہ سماج کو ایسی ہزیمت اٹھانی پڑی جو مدتوں اسے یادر ہے گی پھر کر انہیں اس مضمون کو منتخب کرنے میں کیا حکمت مد نظر ہو سکتی ہے۔بہر حال یہ مناظرہ نئی دہلی میں ہوا اور سامعین میں کئی ہزار تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ہماری طرف سے جناب مولوی ابوالعطاء صاحب فاضل پرنسپل جامعہ احمد یہ مناظر تھے اور آریہ سماج کی طرف سے پنڈت چرنجی لال صاحب تھے۔جو باوجود عمر رسیدہ ہونے کے بدزبانی میں اچھے مشاق معلوم ہوتے ہیں۔خیال ہوا کہ غالباً اسی وجہ سے مذکورہ بالا مضمون پر دوبارہ مناظرہ کرنے کیلئے پنڈت صاحب موصوف کو بلایا گیا ہے تا وہ اپنی بد زبانی کی آڑ میں پہلے مناظرہ کی شکست اور ذلت کو چھپا سکیں۔لیکن آریہ سماج کو اس کا بھی تجربہ ہو گیا کہ حق ایسے اوچھے ہتھیاروں سے چھپ نہیں سکتا اور صداقت ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔جناب مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ستیارتھ پرکاش میں ہے احمدی مناظر کی تقریر کر عورت اور مردکی پیدائش کا یہی مدعا ہے کہ دھرم سے یعنی وید کے حکم کے مطابق بیاہ یا نیوگ سے اولاد پیدا کریں۔اور اولاد پیدا کرنے کیلئے ہر دو کو حسب ذیل قاعدہ بتایا گیا ہے۔عورت بانجھ ہو تو آٹھویں برس اولا د ہو کر مر جائے تو دسویں برس جب جب اولا د ہو تو تب تب لڑکیاں ہی ہوں لڑکے نہ ہوں تو گیارہویں برس تک اور جو بد کلام بولنے والی عورت ہو تو جلد ہی اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نیوگ کر کے اولاد پیدا کرے (صفحہ ۱۲۹) مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مرد عورت کی پیدائش کا مدعا اولاد پیدا کرنا ہے اور اگر کسی