حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 231 of 923

حیاتِ خالد — Page 231

حیات خالد 237 مناظرات کے میدان میں ملتا ہے۔پس جب سب کچھ خلی طور پر ملا ہے تو مجددیت یا محمد حمیت کہاں باہر رہ سکتی ہے۔اس کا کوئی جواب مولوی اختر حسین صاحب نے باوجود بار بار توجہ دلانے کے نہ دیا۔دوسرا مناظر ۲۳۰ - امان ( مارچ) کو ہوا۔غیر مبائعین کی طرف سے شیخ عبدالحق صاحب مناظر تھے۔موضوع مناظرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلت بر مسیح ناصری علیہ السلام اور اس کی بنیاد ثبوت پر ہے یا نہیں قرار پایا۔مولوی ابو العطاء صاحب نے دوران مناظرہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے حوالے سنانے کے بعد خاص طور پر نزول ایج کی مندرجہ ذیل عبارت پڑھی کہ۔خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا تعالی کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے جس شخص کو خدا تعالی بصیرت عطا کرنے گاوہ مجھے پہچان لے گا کہ میں مسیح موعود ہوں۔میں وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نی اللہ رکھا ہے اور اس کو سلام کہا ہے۔( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶ ۴۲ - ۴۲۷ ) اس حوالہ کا کوئی معقول جواب فریق لاہور کے مناظر سے نہ بن سکا۔تیسرا مناظره ۲۶ / مارچ (امان ) کی شب کو ہوا۔غیر مبائعین کی طرف سے مولوی اختر حسین صاحب مناظر تھے۔جناب مولوی ابوالعطاء صاحب نے نصف گھنٹہ تقریر فرمائی۔اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نیز لغت، محاورات اور بزرگان کے اقوال سے فیضان ختم نبوت کا ثبوت دیا اور نہایت احسن طریق پر ثابت کیا کہ امت محمدیہ میں صرف تشریعی نبوت کا دروازہ بند ہے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اور یہی بزرگان امت کے اقوال سے ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مناظرے نہایت کامیاب ثابت ہوئے اور سامعین پر ان کا بہت اچھا اثر ہوا۔الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۴۱ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۹ صفحه ۲۸۹ - ۲۸۸) ۱۹۴۱ء میں انجمن احمد یہ دہلی کے سولہویں سالانہ جلسہ کے دہلی میں آریہ سماج سے مناظرہ دوسرے روز ۲۹ مارچ کو آریہ سماج سے ایک کامیاب مناظرہ ہوا۔الفضل کی رپورٹ کا متعلقہ حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔دوسرے دن شام کو ساڑھے چار بجے سے ساڑھے چھ بجے تک آریہ سماج کے ساتھ اس موضوع پر مناظرہ ہوا۔کتی محدود ہے یا غیر محدود آریوں کی طرف سے پنڈت رام چندر صاحب اور ہماری طرف سے مولوی ابو العطاء صاحب مناظر تھے۔مناظرہ بفضلہ تعالی نہایت کامیاب ہوا۔اور سامعین پر