حیاتِ خالد — Page 225
حیات خالد 231 مناظرات کے میدان میں On Firday, November 25th, 1921۔He attended the noonday prayer at the Mosque in Haifa۔(p۔82) عربی ترجمہ میں لکھا ہے۔فَفِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ /٢٥ نوفمبر سنة ۱۹۲۱ء شَهِدَ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدِ حَيْفَا (صفحہ اے ) اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عبد البہاء نے ۲۵ نومبر ۱۹۲۱ء کو جمعہ کی نماز حیفا کی مسجد میں پڑھی لیکن اُردو تر جمہ میں نہایت ہوشیاری سے لکھا گیا کہ :- ۲۵ نومبر ۱۹۲۱ء کو جمعہ کے دن دوپہر کو آپ مسجد حیفا کو گئے“۔(صفحہ ۷۵) اس تحریف کا مقصد صرف یہ ہے کہ اُردو پڑھنے والوں کو یہ شبہ نہ گزرے کہ عبدالباء بہائی تعلیمات کے سراسر خلاف جمعہ کی نماز مسلمان امام کی اقتداء میں ادا کرتا رہا۔اس امر سے صاف نتیجہ نکلتا ہے۔کہ یا تو عبد البہاء کو بہائیت کی صداقت پر ایمان نہ تھا۔یا وہ تقیہ سے کام لیا کرتا تھا اس لئے علمی صاحب نے اُردو ایڈیشن میں اس واقعہ کو غلط طور پر شائع کیا ہے۔معلوم ہوا کہ بہائیوں کے دل بھی اس روش سے شرمسار ہیں۔ایلیا کا لفظ بڑھا دیا انگریزی عصر جدید میں لکھا ہے۔Bahaullah explains that the coming again of Christ was fulfilled in the advent of the Bab and in his own coming۔(p273) عربی ترجمہ میں آتا ہے۔وَقَدْ بَيَّنَ بَهَاءُ اللهِ بِأَنَّ رَجْعَةَ الْمَسِيحِ تَحَقَّقَتْ بِمَجِيْنِ الْبَابِ وَ بِظُهُوْرِ نَفْسِهِ (صفحه ۲۲۰) اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بہاء اللہ نے مسیح کی آمد ثانی سے مراد باب کا آنا اور اپنا ظہور لیا ہے گویا باب اور بہاء اللہ دونوں کا آنا مسیح کا آنا ہے۔لیکن اُردو ترجمہ میں ایلیا کا لفظ بڑھا کر یوں ترجمہ کیا۔گیا ہے کہ حضرت بہاء اللہ فرماتے ہیں کہ :- ایلیا اور مسیح کا دوبارہ آنا حضرت باب کے اور آپ کے آنے سے پورا ہو گیا ( صفحہ ۲۶۹) بہائیوں کا جواب۔میں نے جب یہ مثالیں پیش کیں اور علمی صاحب سے پوچھا کہ وہ ان کا