حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 210 of 923

حیاتِ خالد — Page 210

حیات خالد 216 مناظرات کے میدان میں دوسرا مناظرہ ختم ہونے کے بعد کہا کہ اب ہم آئندہ ستمبر میں پھر بحث کریں گے۔اب کے انتظار کرتے کرتے تمبر کا مہینہ تو گزر گیا۔لیکن اپریل میں سالانہ جلسہ کے موقعہ پر انہوں نے ہم سے زبانی کہا کہ اس دفعہ پھر ہم سے مناظرہ کر لیجئے۔ہماری طرف سے ان کا چیلنج منظور کر لیا گیا۔چنانچہ مورخہ ۱۸،۱۷ اپریل کو دوز بر دست مناظرے ہوئے۔پہلا مناظرہ کیا ودید دھرم عالمگیر ہے“ کے موضوع پر تھا۔ہمارے مناظر مہا شہ محمد عمر صاحب تھے۔دوسرا مناظرہ کیا اسلام عالمگیر مذہب ہے" کے موضوع پر تھا۔ہماری طرف سے جناب مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری مناظر تھے۔آپ نے اسلام کے عالمگیر مذہب ہونے پر پچیس دلائل پیش کئے اور پنڈت رامچند رصاحب کے جملہ اعتراضات کے ایسے ٹھوس مدلل اور معقول جواب پیش کئے کہ مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں پر بھی ان کا اثر ہوا۔پنڈت صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں صرف چند فرسودہ اعتراضات کئے مثلاً یہ کہ قرآن کریم سے نماز کے اوقات کا ثبوت پیش کرو۔اور قرآن میں وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ" کے بعد بعض نسخوں میں وقف لازم ہے۔اور بعض میں نہیں " اور " قرآن اپنی موجودہ صورت میں نازل نہیں ہوا بلکہ حضرت عثمان نے اسے ترتیب دیا ہے۔جب مولانا ابوالعطاء صاحب نے قرآن کریم کی مختلف آیتوں سے پانچوں نمازوں کے نام بھی بتلا دیئے اور وقف لازم کے متعلق فرمایا کہ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہے نیز إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ سے ثابت کیا کہ قرآن کریم کا جمع کرنا اور موجودہ صورت میں ترتیب دینا بھی قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے۔تو پنڈت صاحب مبہوت ہو کر رہ گئے اور مسلمان پبلک بہت خوش ہوئی۔ہر دو مناظروں میں چونکہ آریہ سماجی مناظر صریح طور پر فاش شکست کھا چکا تھا اس لئے آخری مناظرہ کے آریہ صدر نے اپنی خفت پر پردہ ڈالنے کیلئے کہا کہ کیا آپ ہمارے ساتھ پیشگوئیوں کے موضوع پر مناظرہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔جواب میں مولانا ابو العطاء صاحب نے کہا ہاں ہم ہر وقت تیار ہیں۔آج ہی اسی وقت اسی پنڈال میں کر لیجئے اور پنڈت لیکھرام کے متعلق بحث کیلئے بھی تیار رہیے۔خاکسار محمد نواز خان کٹکی۔سیکرٹری تبلیغ جماعت احمدیہ کراچی روز نامه الفضل قادیان دارالامان :۲۶ را پریل ۱۹۳۸، نمبر ۹۵ جلد ۱۲۶ صفحه ۹) یکم دو اور تین اپریل ۱۹۳۸ء کو جماعت احمد یہ دہلی کا سالانہ دہلی میں ایک کامیاب مباحثہ جلسہ بہت کامیابی سے منعقد ہوا۔جلسہ کے دوران آریہ