حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 208 of 923

حیاتِ خالد — Page 208

حیات خالد 214 مناظرات کے میدان میں جماعت احمدیہ جہلم کے جلسہ پر آریہ سماج سے کامیاب مناظرے ۲۳ را پریل ۱۹۳۷ء کو جلسہ بمقام جو بلی گھاٹ مسلم بوقت ۵ بجے شام شروع ہوا۔جس میں مولوی محمد نذیر صاحب مولوی فاضل ملتانی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تمام دنیا کے لئے کامل ہادی ہیں" کے موضوع پر مبسوط علمی لیکچر دیا اور اس کے بعد مولوی محمد اسماعیل صاحب دیال گڑھی مولوی فاضل نے بستی باری تعالی کی حقیقت پر تقریر کی۔دوسرا اجلاس ساڑھے آٹھ بجے شب ہوا۔جس میں مہاشہ محمد عمر صاحب مولوی فاضل نے اسلام اور دیگر مذاہب پر لیکچر دیا۔جس میں اسلام کی برتری کے ثبوت میں کئی حوالہ جات پیش کئے۔اس کے بعد جناب مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری نے اپنے مخصوص انداز میں حدوث روح و مادہ پر عالمانہ تقریر کی۔جس کے متعلق ایک معزز آریہ نے تحریراً اقرار کیا کہ مولوی صاحب کی تقریر بر جستہ اور شستہ تھی اور مولوی صاحب کو اس بات پر مبارک باد دی۔۲۴ را پریل ۱۹۳۷ء کو ۵ بجے شام مولوی محمد نذیر صاحب نے ” قرآن کریم ہی کامل الہامی کتاب ہے“ کے موضوع پر مدلل تقریر کی جس کو حاضرین نے بہت پسند کیا۔اس کے بعد 9 بجے شب جناب مولوی ابو العطاء اللہ داتا صاحب نے اسلام کی پیش کردہ حقیقی نجات اور مسئلہ تاریخ پر نہایت زبر دست تقریر فرمائی۔جس کا حاضرین جلسہ پر غیر معمولی طور پر گہرا اثر تھا اور حاضرین کی تعداد پہلے دن کی نسبت بہت زیادہ تھی۔۲۵ ۱ اپریل ۱۹۳۷ء کی صبح کو آریہ سماج جہلم کی طرف سے چیلنج مناظرہ دیا گیا۔جس کو ہم نے بخوشی منظور کر لیا اور شرائط وغیرہ طے پاگئیں۔پہلا مناظرہ کیا وید الہامی کتاب ہے“ کے موضوع پر ۵ بجے شام آریہ سماج سے پہلا مناظرہ شروع ہوا۔آریہ سماج کی طرف سے پنڈت ست دیو صاحب مناظر تھے اور ہماری طرف سے مہاشہ محمد عمر صاحب۔دوسرا مناظرہ " کیا قرآن مجید کامل الہامی کتاب ہے“ کے موضوع پر تھا۔جس میں دوسرا مناظرہ ہماری طرف سے مولوی ابوالعطاء اللہ دتا صاحب مولوی فاضل جالندھری مناظر تھے۔انہوں نے اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے ۱۲ دلائل قرآن مجید سے پیش کئے۔آریہ مناظر کو ان میں سے ایک دلیل کو بھی توڑنے کی جرات نہ ہوئی۔بڑی مشکل سے ادھر ادھر کی باتوں میں وقت پورا کیا۔