حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 206 of 923

حیاتِ خالد — Page 206

حیات خالد 212 مناظرات کے میدان میں بٹالہ میں مذہبی کا نفرنس آریہ سماج بٹالہ نے ہے۔اپریل کو ایک مذہبی کا نفرنس کا انتظام کیا ۳ بجے بعد دو پہر یہ کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں سکھ ، شیعہ، سناتنی ، آریہ، رادھا سوامی اور احمدی نمائندوں نے میرا مذہب مجھے کیوں پیارا ہے“ کے موضوع پر لیکچر دیئے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری نے آدھ گھنٹہ تک تقریر کی۔ہندوؤں نے بھی اس تقریر کی تعریف کی۔قادیان سے بھی بعض دوست لیکچر سننے کیلئے تشریف لے گئے تھے۔الفضل: ۱/۱۰ اپریل ۱۹۳۷ء صفحه ۸ کالم نمبر ۴: نمبر ۸۳: جلد ۲۵) احباب کو معلوم ہے کہ کراچی میں مناظره ما بین جماعت احمدیہ وآریہ سماج کراچی ۲۸، ۲۹ / مارچ ۱۹۳۷ء کو جماعت احمد یہ اور آریہ سماج کے مابین قدامت روح و مادہ اور تناسخ پر دو دن عظیم الشان مناظرے ہوئے۔کراچی کی آریہ سماج نے غالباً ۲۳ سے لے کر ۲۹ / مارچ تک سالانہ جلسہ کیا۔جس میں ان کے چیدہ چیدہ مشہور لیکچرار موجود تھے اور مناظرہ کیلئے پنڈت رام چندر دہلوی کو بلایا ہوا تھا۔چونکہ انہیں پنڈت صاحب مذکور پر خاص ناز تھا اس لئے مناظرہ کی تاریخ سے بہت پیشتر انہوں نے تمام اسلامی و غیر اسلامی انجمنوں کو کھلی دعوت دے رکھی تھی کہ جس کا جی چاہے پنڈت صاحب سے آریہ سماجی عقائد پر مناظرہ کر لے۔ہم نے فوراً یہ چیلنج قبول کر لیا اور مرکز سے مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری اور مہاشہ محمد عمر صاحب تشریف لائے۔آریہ سماج کا ہم شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ انتظام نہایت اچھا تھا۔داخلہ بذریعہ ٹکٹ تھا اور پانچ چھ ہزار کے مجمع میں مناظر صاحبان آلہ نشر الصوت کے ذریعہ اپنی آوازوں کو عمدگی سے پہنچا رہے تھے بلکہ احاطہ سے باہر بھی سینکڑوں آدمی کھڑے ہو کر سن رہے تھے۔ہر فریق کا ایک ایک پریذیڈنٹ تھا۔ہمارے پریذیڈنٹ مہاشہ محمد عمر صاحب تھے اور ان کے لالہ خوشحال چند صاحب ایڈیٹر ملاپ تھے۔ہر دو مناظروں میں مولانا ابوالعطاء صاحب نے ایسے وزنی اعتراضات کئے کہ مسلم پبلک کے علاوہ ہندوؤں ، آریوں اور سکھوں نے بھی ہمارے مناظر کے ناقابل تردید دلائل کی از حد تعریف کی اور کھلم کھلا اس بات کا اعتراف کیا کہ پنڈت صاحب مولوی صاحب کے اعتراضات کا جواب نہیں دے سکے اور نہ وہ دے سکتے تھے۔کیونکہ پنڈت صاحب ایسے مسائل کی حمایت میں کھڑے تھے جو غیر فطرتی تھے اور سلیم الفطرت انسان کا کانشنس ان خلاف عقل مسائل کو قبول کرنے کیلئے کبھی بھی تیار نہیں