حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 203 of 923

حیاتِ خالد — Page 203

حیات خالد 209 مناظرات کے میدان میں ہے۔ہمارے فاضل مناظر کا مخصوص انداز حوالہ جات کی بھر مار خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے خاص کامیابی کا باعث ہوئی۔موافق و مخالف سب کی زبان پر یہی چہ چاتھا کہ احمدی مناظر غالب آ گیا اور یہ کہ شیعہ مناظر اپنے مذہب سے ہی واقف نہیں ہے۔اس ہزیمت کی طرف سے پبلک کی توجہ پھیر نے کیلئے موضع خان پور کے اہلحدیث لوگوں نے مناظرہ کا چیلنج دیا جو فورا منظور کر لیا گیا۔مناظرہ میں قریباً پانچ صد افراد کی حاضری ہوتی۔چاروں روز با امن جلسہ ہوتا رہا۔فریقین کے صدر مولوی دل محمد صاحب فاضل وسید محبوب شاہ صاحب تھے۔چوہدری عبد الکریم صاحب اور تھانیدار علاقہ کا انتظام جلسہ میں خاص دخل تھا۔ہم منتظمین جلسہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔( نامہ نگار ) (روز نامه الفضل قادیان دارالامان : ۷/اکتوبر ۱۹۳۶ء صفحه دو) اس مناظرہ کی تفاصیل بعد ازاں مناظرہ مہت پور کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو گئیں۔مناظرہ میں ناکامی پر انجمن سیف دلی ۲ مارچ ۱۹۳۷ء (بذریعہ ڈاک ) آج بوقت شام ختم نبوت پر مناظرہ ہوا جناب ابوالعطاء صاحب الاسلام دہلی کی مفسده پردازی نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ کامیاب مناظرہ کیا۔یہاں تک اس کا اثر تھا کہ بڑے سے بڑے فریق مخالف کے مولوی اور عوام تک مرغوب تھے۔آخر میں فریق مخالف نے لوگوں کو اکسا کر فساد پر آمادہ کیا حالانکہ ہماری طرف سے مولوی محمد یار صاحب عارف نے انجمن سیف الاسلام اور پبلک دہلی کا شکر یہ ادا کیا کہ انہوں نے نہایت خاموشی اور سکون کے ساتھ مناظرہ سنا اور ہمیں اپنی انجمن میں وقت دیا۔اس بات کا بھی پبلک پر نہایت عمدہ اثر ہوا جو کہ مخالف فریق کو ناگوار گذرا۔اس پر مولوی ابوالوفا شاہجہانپوری نے لوگوں کو اکسایا کہ تو یہ کرواؤ اور جانے نہ دو۔جس وقت ہمارے مولوی صاحبان اور احباب جماعت واپس جا رہے تھے تو پیچھے سے آکر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔اگر ہماری طرف سے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا جاتا تو بات بہت بڑھ جاتی لیکن ہماری طرف سے کسی نے ہاتھ نہ اٹھایا۔ہمارے کئی دوستوں کو شدید ضر ہیں آئیں۔لاٹھیاں تو اکثر دوستوں اور علماء کے بھی لگیں۔شریف پبلک نے ہمارے رویہ کی بہت تعریف کی اور انجمن سیف الاسلام والوں کو لعنت ملامت کی۔رات کے وقت سناتن دھرمیوں کا مناظرہ تھا مگر انہوں نے آنے سے انکار کر دیا اور کہا جہاں ایسے غنڈہ پن کا مظاہرہ ہو وہاں ہم جانا نہیں چاہتے۔سنا گیا ہے کہ صبح مولوی عمر الدین وغیرہ پیغامیوں کی بھی پگڑیاں اچھالی گئیں تھی اور فساد ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔شہر کے اکثر