حیاتِ خالد — Page 183
حیات خالد۔189۔مناظرات کے میدان میں کی طرف سے دلائل قاطعہ کے ساتھ اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ اگر غیر مبائع دوست تعصب اور ہٹ دھرمی کے خیالات کو چھوڑ کر غور کریں تو ان پر اصل حقیقت آشکار ہو جائے۔مگر عداوت محمود میں ان کا کینہ اور بغض اس قدر ترقی کر گیا ہے کہ غیر احمدیوں کو بھڑکانے اور مشتعل کرنے کیلئے وہ ہر وقت کسی نہ کسی صورت میں ان مسائل کو پیش کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ ۷ ۸ مارچ کو جہلم میں غیر مبائعین کا جلسہ قرار پایا۔انہوں نے حسب عادت اشتہار کے اختتام پر ایک نوٹ لکھا کہ آریوں اور عیسائیوں اور قادیانیوں کو سوال و جواب کا موقع دیا جائے گا۔چونکہ حسن اتفاق سے ۶،۵ / مارچ کو جماعت احمدیہ کالا گوجراں میں جلسہ تھا جس میں مولوی الله و تا صاحب فاضل جالندھری بھی تشریف لائے تھے ہم نے ۷، ۸ مارچ غیر مباکھین کے جلسہ میں سوال و جواب کرنے کیلئے ان کو روک لیا اور تاریخ اور وقت مقررہ پر ہم پہنچ گئے۔لیکن جب ایک لیکچرار کی تقریر کے اختتام پر ہمارے فاضل مبلغ سوال کیلئے کھڑے ہوئے تو مولوی لیے صدرالدین صاحب نے جو صدارت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے سوال کرنے سے روکنا چاہا مگر ہمارے اصرار اور غیر احمدیوں کی تائید پر صاحب صدر نے بڑی مشکل سے سوال کی اجازت دی جس پر ہمارے فاضل مبلغ نے چند منٹ میں ہی نوایسے ٹھوس سوال کئے جن کا غیر مبائین کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔مولوی صدر الدین صاحب نے بحیثیت صدر اِدھر اُدھر کی باتوں میں پبلک کی سمع خراشی کر کے دوسرے لیکچرار کو تقریر کے واسطے کھڑا کر دیا۔مولوی اللہ دتا صاحب اس لیکچرار کی تقریر کے خاتمہ پر بھی سوالات کیلئے اٹھے مگر مولوی صدرالدین صاحب نے بصد منت کہا کہ اشتہار میں سوال و جواب کا نوٹ کرنے میں ہم سے غلطی ہو گئی آپ جانے دیں اور سوال نہ کریں۔اس طرح ان لوگوں کو جو ندامت ہوئی اس کے ازالہ کیلئے انہوں نے جلسہ کے بعد ہمیں مناظرہ کا چیلنج دیا جسے ہم نے منظور کر لیا اور مناظرہ کے لئے ۱۵ / مارچ کی تاریخ مقرر ہوئی۔چونکہ شرائط کا طے ہونا ضروری تھا اس لئے میں نے ان کو شرائط مناظرہ پیش کرتے ہوئے شرط نمبر۲ میں لکھا۔قرآن کریم اور حدیث کے وہ معانی فریقین کو قابل قبول ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئے ہیں۔حضور کے بیان فرمودہ معانی کے بر خلاف بیان کرنے کا کسی کو حق نہ ہوگا۔اس کے جواب میں انہوں نے لکھا۔نمبر ۲ کے متعلق عرض ہے کہ آپ نے بالکل نرالا اور انوکھا اصول پیش کیا ہے۔گویا ان کے " نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ معانی کو قبول کرنا ایک نرالا اور انوکھا اصول ہے۔اس شرط پر میں نے بار بار زور دیا اور لکھایا انکار کریں یا اقبال کریں۔مگر آخر وقت تک اس