حیاتِ خالد — Page 135
حیات خالد 141 مناظرات کے میدان میں کا شائع کر رہے ہیں ( تفخیذ الاذہان میں شائع شدہ خط مراد ہے ) کیا یہ تمہارا ہے۔اس نے کہا ہاں میرا ہے۔شریف شریفوں کے متعلق ایسا ہی لکھا کرتے ہیں۔اس پر فاضل جالندھری نے بتلایا کہ آپ نے جو کچھ شائع کیا اگر اس کو صحیح تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی یہ بعد از وقت ہے۔اس سے انجام آنتم والا مطالبہ پورا نہیں ہوتا ہے۔وہاں تو صاف الفاظ ہیں :- پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا << وو ہوں۔مگر آپ مدعی کی وفات کے سولہ سال بعد چند الفاظ شائع کر رہے ہیں۔مشتے که بعد از جنگ یاد آید بر کله خود باند زد " وو اس تشریح سے مولوی صاحب نے سٹ پٹا کر کہنا شروع کر دیا کہ اشتہار کے معاملہ کو ہی جانے دو۔مولوی صاحب نے فَاقْبَرَة كو مهملة في قوة الجزئية“ کہہ کر بھی ندامت اٹھائی۔جب کہ ان سے کہا گیا کہ پھر تو سب انسان نہ نطفہ سے پیدا ہوتے ہیں اور نہ مرتے ہیں اور نہ ہی سب کا نشور ہوگا۔بلکہ بعض کا ہوگا ( نعوذ باللہ ) اور ایسا ہی اگر روحانی قبر نہ ہو تو عذاب قبر تو صرف مسلمانوں کیلئے رہ جائے گا۔ہندو، پاری وغیرہ بچ جائیں گے۔غرض مولوی ثناء اللہ صاحب کو سخت ذلت اٹھانی پڑی۔آپ نے کھسیانہ ہو کر مولوی اللہ دتا صاحب کو کہا کہ آپ منڈے“ ہیں۔جس کا مولوی صاحب موصوف نے نہایت برجستہ جواب یا کہ ابو جہل کے قاتل بھی منڈے ( نوجوان لڑکے ) ہی تھے۔چار گھنٹہ تک مباحثہ رہا۔مگر مولوی صاحب نے آخری فیصلہ کی طرف رخ نیک نہ کیا۔جانتے تھے کہ پھر " مفسد، دغا باز اور نافرمان لوگوں میں شامل ہونا پڑے گا۔اخیر تک آپ بار بار انہی تین اعتراضات کو دہراتے رہے اور ان معیاروں کو چھوا تک نہیں جو مولوی اللہ دتا صاحب نے صداقت مسیح موعود کیلئے قرآن پاک سے پیش کئے تھے۔دوسرا مناظر ۲۰ بجے سے شروع ہوا۔غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی کرم الدین صاحب ساکن بھیں مقرر ہوئے اور ہماری طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری مناظر تھے۔مولوی کرم الدین صاحب نے حسب عادت لن ترانیاں کہنی شروع کیں مگر بے سود۔مولوی اللہ دتا صاحب نے قرآن کریم سے صداقت مسیح موعود کیلئے زبردست اصول قائم کئے جن کا اخیر تک کوئی جواب نہ دیا۔ہاں بعض الہامات پر اعتراض کئے جن کے مدلل جواب پاکر درشت کلامی پر اتر آئے۔مواہب الرحمن صفحہ ۱۲۹