حیاتِ خالد — Page 12
حیات خالد 0 12 خلفائے احمدیت کے مبارک ارشادات اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ترقی کرنے والے ہیں۔(۱۷ جون ۱۹۳۰ء ) ۱۹۳۱ء میں ایک مناظرہ کے موقعہ پر حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مولانا کو اپنی طرف سے سند نیابت سے سرفراز فرماتے ہوئے اپنے قلم سے تحریر فرمایا:- میں مولوی اللہ و تا صاحب کو اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں۔میری طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے مباحثہ کریں اور ان کا ساختہ پر داختہ کلی طور پر میری طرف سے سمجھا جائے گا“۔( الفضل قادیان ۲۷ جون ۱۹۳۱ء ) خطبہ جمعہ فرموده ۸ نومبر ۱۹۴۰ء میں فرمایا : - ہماری جماعت میں لوگ بیمار بھی ہوتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں۔مگر کیا کبھی بھی ہمارے کاموں میں رخنہ پڑا جب میر محمد اسحق صاحب کو انتظامی امور میں زیادہ مصروف رہنا پڑا اور ان کی صحت بھی خراب ہوگئی اور ادھر حافظ روشن علی صاحب وفات پاگئے تو کیا اس وقت بھی کوئی رخنہ پڑا؟ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فوراً مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کر دیا اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلوں کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں۔(الفضل قادیان ۱۹ نومبر ۱۹۴۰ء) جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء کی تقریر فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۵۶ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے 0 حضرت مولانا کو خالد کے خطاب سے نوازا۔اپنی تقریر میں حضور نے فرمایا : - " حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے خلاف جب حملے ہوئے تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا تھا کہ مغرورمت ہو۔میرے پاس خالد ہیں جو تمہارا سر توڑ دیں گے مگر اس وقت سوائے میرے کوئی خالد نہ تھا صرف میں ایک شخص تھا۔جس نے آپ کی طرف سے دفاع کیا اور پیغامیوں کا مقابلہ کیا۔یہ نہ سمجھو کہ اب وہ خالد نہیں ہیں اب ہماری جماعت میں اس سے زیادہ خالد موجود ہیں چنانچہ شمس صاحب ہیں مولوی ابوالعطاء ہیں عبدالرحمن صاحب خادم ہیں۔یہ لوگ ایسے ہیں کہ جو دشمن کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور دیں گے۔انشاء اللہ تعالٰی۔اور اللہ تعالیٰ ان کی قلم میں اور ان کے کلام میں زیادہ سے زیادہ برکت دے گا یہاں تک کہ یہ اُس بت خانہ کو جو پیغامیوں نے تیار کیا ہے چکنا چور کر کے رکھ دیں گئے۔الفضل ربوده ۱۵ مارچ ۱۹۵۷ء صفحه ۴ )