حیاتِ خالد — Page 10
حیات خالد 10 با برکت کلمات عربی میں بات کر رہے ہیں۔یہ باتیں چند فقروں کی نہیں ہوتی تھیں بلکہ سوال کے جواب میں دس دس پندرہ پندرہ منٹ لگا تار عربی میں بات کر رہے ہیں اور عرب ان کی روانی اور بات کے انداز اور اخلاق سے بڑے متاثر ہوتے تھے۔سوال کرنے والے بعض روایتی اوٹ پٹانگ سوال بھی کر دیا کرتے تھے جیسا کہ انہیں ان کے مولویوں نے بتایا ہوتا تھا مگر مجال ہے کہ حضرت مولانا صاحب کے چہرہ پر کوئی خفگی آئی ہو۔بڑے پیار سے ان کو سمجھاتے تھے۔مجھے یقین ہے کہ اس وقت کے عرب طلباء جو آج کل تو اپنے ملکوں میں کہیں ہوں گے، جن میں سے زیادہ تر مصر، اُردن اور سوڈان کے تھے ، وہ ضرور مولانا صاحب کی اس گفتگو کو یاد کرتے ہوں گے۔ان بزرگوں کی پرانی یادیں سمیٹنا شروع کروں تو قابو نہیں آتیں، بکھر جاتی ہیں۔کبھی کسی بزرگ کے اوصاف نظر میں گھوم جاتے ہیں، کبھی کسی کے۔اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔اللہ کرے کہ یہ سیرت و سوانح حضرت مولانا صاحب کی اولاد در اولاد اور نسلوں میں ان کے اوصاف حمیدہ کو جاری رکھنے کا باعث بنے۔بلکہ احمدیت کی نئی نسل ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی رہے اور خلافت سے اخلاص ، وفا اور جماعت کی خاطر قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم رکھتی چلی جائے۔آمین مجھے امید ہے کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی سیرت و سوانح پڑھنے والا ہر شخص ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کرنے والا ہوگا اور ان کی نسل کے ایمان، اخلاص اور وفا کے بڑھنے کیلئے بھی دعا کرے گا۔انشاء اللہ تعالی۔والسلام خاکسار ور سور که کس خليفة المسيح الخامس