حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 895 of 923

حیاتِ خالد — Page 895

حیات خالد 876 گلدستۂ سیرت فرمایا میں نے آج تک کوئی مناظرہ نہیں کیا جس میں اللہ جل شانہ کی بارگاہ عالی میں سجدہ ریز ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ دعائیہ شعر در دو سوز سے نہ پڑھا ہو میرے ستم و عیب سے اب کیجیے قطع نظر تا نہ ہو خوش دشمنِ دیں جس پہ ہے لعنت کی مار قومی اسمبلی پاکستان کی کارروائی ۱۹۷۴ء کے دوران حضرت مولانا شمع خلافت کا پروانہ صاحب نے رہبر کیٹی" کے خفیہ اجلاس میں شرکت کے بعد مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میری ساری عمر دعوت الی اللہ اور مباحثات میں گزری ہے لیکن جو مسکت و مدلل جواب خدا کے مقدس خلیفہ کی زبان مبارک سے آج میں نے سنے ہیں کبھی اُن کی طرف ذہن ہی نہیں گیا۔مثالی عاشق مصطفی پ حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور حضرت مصلح موعود کا یہ عارفانہ شعر آپ کے رگ وریشہ میں رچا ہوا تھا اور آپ کے پیکر خاکی کا جزو اعظم تھا۔کروڑ جاں ہو تو کر دوں فدا محمد پر کہ اس کے لطف و عنایات کا شمار نہیں آپ کا پیدا کردہ معلومات افروز لٹریچر آپ کے معرکہ آراء درس اور دوسرے خطابات اور آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اس حقیقت پر شاہد ناطق ہے۔کہتے ہیں سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی درس دے رہے تھے کہ ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ میں آپ کا شہرہ سن کر آیا تھا کہ ایک صاحب کرامات بزرگ ہیں مگر میں کئی ہفتوں سے آپ کی محفل میں آتا رہا ہوں مجھے تو کوئی کرامت دکھلائی نہیں دی فرما یا ان ایام میں تم نے میرا قریب سے مطالعہ کیا ہے کیا کوئی چیز اسوۂ محمدی کے خلاف بھی مجھے میں تم نے پائی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں۔اس پر حضرت جنید نے فرمایا۔اس سے عظیم معجزہ اور کیا ہو گا کہ میں نے اپنی پوری زندگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اسوہ میں پورے جلال و تمکنت سے ڈھال لی ہے۔یہی کیفیت حضرت مولانا صاحب کی تھی۔ایک بار حضرت مولانا سے بیت مبارک ربوہ کی طرف جاتے ہوئے سر راہ ملاقات ہوئی۔آپ نے مجھے دیکھتے ہی دھیمی مگر سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی آواز کے ساتھ اس حسرت کا اظہار فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۳ سال زندگی پائی جس کے بعد آپ کا وصال مبارک ہو گیا۔جب