حیاتِ خالد — Page 894
حیات خالد 875 گلدستۂ سیرت ہوئے ارشاد فرمایا آپ حضرات نے اپنے سابقہ عقائد و نظریات میں بھی ساری تبدیلیاں ۱۹۱۴ء کے بعد ہی فرمائی ہیں۔ان مختصر الفاظ نے صدائے ربانی بن کر سب غیر مبائعین پر سکتہ کا عالم طاری کر دیا اور جناب شیخ غلام قادر صاحب مرحوم تو آبدیدہ ہو گئے۔اللَّهُمَّ اغْفِرْلَهُ وَأَدْخِلْهُ فِي جَنْبِكَ النَّعِيمِ استاذی اکترم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے حضرت مسیح موعود کا مقام وصال“ کے عنوان سے حسب ذیل بیش قیمت نوت رقم فرمایا جو الفضل "ر بوده ۳۱ مکی ۱۹۶۲ء کے صفحہ ۵ پر سپر داشاعت ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی تاریخ ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ ء ہے۔اسی طرح مور محد ۲۵ رمئی ۱۹۶۲ء کو آپ کی وفات پر چون برس بیت گئے ہیں۔حسن اتفاق سے کل خاکسار اور عزیزم مولوی دوست محمد صاحب شاہد لاہور گئے تھے۔ہم احمد یہ بلڈ ٹیکس میں اس مکان کو بھی دیکھنے گئے جہاں چون سال پیشتر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تھا۔محترم جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی اور احمد یہ بلڈنکس سے جناب شیخ غلام قادر صاحب ہمارے ہمراہ ہوئے۔جناب شیخ غلام قادر صاحب نے برانڈ رتھ روڈ کی وہ دکانیں دکھائیں جو پہلے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب مرحوم کا مکان تھا اور جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زندگی کے آخری لمحات بسر فرمائے تھے۔اب اس مکان کی شکل بھی بدل چکی ہے۔جو کھلا کمرہ اور ہال تھا اور جہاں جمعہ وغیرہ کی نمازیں اس وقت پڑھی جاتی تھیں وہ سب دکانیں ہیں۔بڑے کمرہ میں دیوار میں حائل ہیں۔جناب شیخ غلام قادر صاحب نے بتلایا کہ یہ سب تبدیلی ۱۹۱۴ء کے بعد ہی ہوئی ہے۔کتنا رقت انگیز یہ منظر تھا کہ گلی میں کھڑے جب شیخ صاحب موصوف بتا رہے تھے کہ اس گلی کے اوپر دونوں مکانوں کو ملانے کے لیے ایک پل ہوتا تھا۔جہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کمرہ سے نماز کے لئے آتے تھے تو اس ذکر پر ان کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں آنسو بھر آئے ہم سب بھی خاص طور پر متاثر تھے۔ان مقامات کو دیکھنے سے دل میں ایک درد اُٹھتا ہے اور دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالی جلد وہ وقت لائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشن پوری شان سے کامیاب ہو۔آمین۔مجھے محسوس ہوا کہ ہمارے اس طرح جانے سے غیر مبائع احباب میں بھی اس امانت کی یادگاری اہمیت زیادہ محسوس ہونے لگی ہے۔“ دعا کے آسمانی ہتھیار سے مسلح ایک بار مجھ ناچیز نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے آج تک بے شمار مناظرے کیہیں جن کا سلسلہ بر صغیر سے ہلا دعر بیہ تک ممتد ہے۔آپ مباحثوں میں کامیابی کے لئے خصوصی طور پر کیا دعا کیا کرتے تھے؟