حیاتِ خالد — Page 843
حیات خالد 832 گلدستۂ سیرت بار محسوس ہوتا تھا کہ آپ زیر لب میرے لئے دعا گو ہیں۔اللہ تعالیٰ میری بے حد و حساب کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگذر کرتے ہوئے محض اپنے فضل خاص سے مجھے اپنے والد بزرگوار کی دعاؤں کا مورد بنائے۔آمین یا رب العالمین۔بیٹوں اور بیٹیوں سے شفقت انسانی فطرت کا تقاضہ ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیم کا ایک منفرد انداز لازمی حصہ ہے مگر مشرقی معاشرہ میں مذہب سے لگاؤ کے اظہار کے باوجود گھر میں آنے والی بہو عام طور پر اس محبت اور احترام کا مستحق نہیں بھی جاتی جو بیٹیوں کے لئے مخصوص ہے۔اس معاملہ میں بھی اللہ تعالی نے حضرت مولانا کو ایک منظر و مقام عطا فرمایا تھا جس کا کسی قدر اظہار آپ کے بیٹے مکرم عطاء الکریم شاہد صاحب کی شادی کے موقع پر تقریب رخصتانہ میں شرکت کے لئے مطبوعہ کارڈ سے ہوتا ہے جس میں آپ نے اپنی بہو اور ان کے والد ماجد کا احترام کے ساتھ خاص طور پر پہلے ذکر فرمایا جب کہ آج کل بسا اوقات دعوتی کارڈوں میں بہو کے والد کے نام کا تذکرہ تک نہیں کیا جاتا اور لڑکے کے باپ کی طرف سے بھیجے گئے کارڈ میں پہلے لڑکی کا نام لکھنا تو ایک غیر معمولی بلکہ حیران کن بات ہے۔حضرت مولانا نے مدعوا حباب کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے بعد تحریر فرمایا :- محترمه عزیزه امتہ الباسط صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ بنت جناب قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی آف نیروبی اور عزیزم عطاء الکریم شاہد بی۔اے ، واقف زندگی کی شادی کی تقریب مورخہ ۳۱ دسمبر ۱۹۶۱ء بوقت چار بجے بعد نماز عصر مقرر ہوئی ہے۔اس مرحلہ پر خاکسار مؤلف معزز قارئین کی توجہ حضرت مولانا کی خصوصی داعیانہ شان کی طرف مبذول کرا نا مناسب سمجھتا ہے کہ کس طرح آپ نے شادی میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے بھی احسن رنگ میں نماز عصر کی طرف مدعوئین کو متوجہ کرنا ضروری خیال فرمایا۔بیٹی اور بہو برابر : کرمہ امتہ الباسط ایاز صاحب لکھتی ہیں۔۔ایک مرتبہ آپ نے اپنی بیٹی اور بہو کو مساویانہ حسن سلوک اور شفقت کا مستحق قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تم دونوں میں سے ایک میری دائیں آنکھ ہے تو دوسری بائیں! اور اسی کے مطابق زندگی بھر آپ کا دستور العمل رہا۔