حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 819 of 923

حیاتِ خالد — Page 819

حیات خالد 808 گلدسته سیرت حضرت مولانا آخر کس طرح پورے کرتے ہونگے ؟ لا ز ما یہی کہنا پڑتا ہے کہ حضرت مولانا کو جس مولا سے بے انتہا پیار تھا وہ خود ہی اپنے پیارے بندے کی تمام ضروریات پوری کرتا تھا۔اور کس طرح کرتا تھا یہ کسی کو معلوم نہیں۔حضرت مولانا کی مہمان نوازی کی صفت کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ آپ کی اہلیہ محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ کا ذکر بھی لازمی ہے۔جنہوں نے وفا کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پاکیزہ صفات خاوند کی رفاقت کا حق ادا کیا اور مہمان نوازی کی اس غیر معمولی صفت کو زندہ اور متحرک رکھنے میں عملاً دن رات ایک کر دیا۔کیونکہ یہ ساری مہمان نوازی گھر سے ہی ہوتی تھی۔کھانے پینے کی اشیاء بازار سے نہیں لائی جاتی تھیں بلکہ اکثر و بیشتر گھر ہی میں تیار ہوتی تھیں۔اور گھر میں نوکروں کا کوئی لاؤ لشکر نہ تھا بلکہ خدمت دین میں دن رات مصروف خاوند کی پاکباز شریک حیات خود ہی ساری محنت کر کے اپنے عظیم خاوند کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں برکت دے اور فضلوں اور رحمتوں سے معمور طویل زندگی عطا کرے۔آمین اس موضوع پر اظہار خیال کرنے والوں کی تعداد بھی بڑی طویل ہے۔تاہم منتخب تحریرات پیش کی جارہی ہیں۔مکرم منصور احمد صاحب بی ٹی مقیم لندن لکھتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مرحوم و مغفور جماعت احمدیہ کے نامور عالم ، جادو بیاں مقرر، قرآن پاک حدیث اور دیگر جملہ علوم دینیہ میں یکتا، مبلغ اسلام بلا د عربیہ فلسطین ، جامعہ احمدیہ کے پرنسپل اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت مصلح موعودؓ سے " خالد احمد یت" کا خطاب پانے والے نہایت پیارے انسان تھے۔ان کی بے شمار خصوصیات میں سے مہمان نوازی اور مردم شناسی نمایاں خصوصیات تھیں۔قادیان دارالامان میں گاہے بگا ہے حضرت والد صاحب کے ساتھ مجھے بھی حضرت مولانا کے دولت کدہ حاضر ہونے کے مواقع ملتے۔بوجہ اپنی کم سنی اور نو عمری کے یہ ہوش اور شعور تو نہ تھا کہ والد صاحب کس عظیم المرتبت انسان سے ملوا ر رہے ہیں۔البتہ یہ شوق کشاں کشاں ان کے در دولت پر لے جاتا کہ وہاں پر " خاطر مدارت محمدہ ہوگی اور اس طرح سے حضرت مولانا کی صحبت میسر آتی رہی۔مکرم پر و فیسر محمد سلطان اکبر صاحب لکھتے ہیں :- گھر پر ملنے کے لئے آنے والوں کی چائے وغیرہ سے اکثر تواضع فرماتے۔اکرام ضیف کا