حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 807 of 923

حیاتِ خالد — Page 807

حیات خالد 796 گلدستۂ سیرت میری آنکھوں نے وہ نظارہ خود دیکھا اور میرے کانوں نے حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی وہ پر شوکت آواز خودسنی۔جب کہ ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مولانا جلال الدین شمس اور حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب خادم مرحوم کے ساتھ آپ کو بھی خالد احمدیت" کے لقب سے سرفراز فرمایا۔"حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا محترم امداد الرحمن صاحب صدیقی مربی سلسلہ لکھتے ہیں :- خاکسار ۱۹۶۸ء کے آخر میں دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ربوہ آیا تھا۔اس وقت سے آخر تک حضرت مولانا مرحوم و مغفور کو دیکھنے اور ان سے فیض پانے کی سعادت حاصل ہوئی۔سعادت اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ یعنی اصلاح احوال کے لئے صادقین اور صالحین کی معیت سب سے زیادہ موثر ذریعہ ہے۔مجھے ایک عارف باللہ انسان کو قریب سے دیکھنے آپ کی باتیں سننے اور آپ کی نیک زندگی کو مشاہدہ کرنے کا جو موقع ملا یقیناً یہ سب باتیں میرے لئے سعادت کا درجہ رکھتی ہیں۔محترم مولوی محمد اسماعیل اسلم صاحب فرماتے ہیں :- خاکسار نے ۱۹۴۸ء میں جامعہ احمدیہ کا امتحان دیا تھا اور ۱۹۴۹ء میں خاکسار کی تقرری بطور انسپکٹر تحریک جدید ہوئی اور مجھے احمد نگر تحریک جدید کے چندہ کے سلسلے میں تحریک کرنے کیلئے بھجوایا گیا۔مجھے شروع سے ہی زبانی تقریر کی مشق نہ تھی اور اب بھی نہیں ہے۔میں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ طلباء کو تحریک کر دیں۔حضرت مولانا نے سب طلباء کو اسمبلی کے وقت صحن میں کھڑا کیا اور مجھے کہا کہ میں خود ہی یہ تحریک کروں۔میرے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ میں اپنے ہی اساتذہ کرام اور طلباء کے سامنے بولوں۔مجھے تجاب تو بہت تھا لیکن آپ نے مجھے امت دلائی۔میں نے تحریک جدید کے بارے میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بعض ارشادات نوٹ کئے ہوئے تھے۔وہ پڑھ کر سب کے سامنے سنائے۔بعد میں آپ نے مجھے تسلی دی کہ سلسلہ کے کاموں میں حجاب نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ ہمت اور جرات کے ساتھ ہر کام میں آگے بڑھنا چاہئے۔آپ کے تسلی دلانے پر میں کچھ عرصہ بطور انسپکٹر تحریک جدید کام کرتا رہا۔تاہم بعد میں میں بیمار پڑ گیا اور صحت نے اجازت نہ دی تو میں ڈاکٹری ہدایت کے مطابق ربوہ منتقل ہو گیا اور دفاتر سلسلہ میں لمبے عرصے تک خدمت سرانجام دینے کی عاجز کو توفیق ملی۔