حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 743 of 923

حیاتِ خالد — Page 743

حیات خالد 732 گلدستۂ سیرت اعتراضات کئے ہیں۔مولانا اپنے درس القرآن میں ان کے شافی جواب د- ه مکرم ملک منصور احمد صاحب عمر لکھتے ہیں :- جس محلہ میں بھی آپ نے قیام فرمایا اس محلہ کی مسجد کو نمازوں ، درس و تدریس، وعظ ونصیحت اور سوال و جواب کی محفلوں سے آراستہ رکھا۔وعظ کا انداز دلکش ہوتا اور بیان موثر۔سوالات کے جوابات علمی بھی ہوتے اور عام فہم بھی۔نو جوانوں اور بچوں کی تربیت کا پہلو ہمیشہ مد نظر رہتا۔مکرم مولوی محمد اسماعیل اسلم صاحب جو ۲۷ سال تک دارالیمن ربوہ کے صدر طلباء پر شفقت محلہ رہے، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے شاگرد رہے ہیں۔آپ ایام طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔خاکسار جس سال جامعہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوا، یعنی ۱۹۴۴ء میں اسی سال حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کا چارج سنبھالا۔میری یادوں میں یہ بات محفوظ ہے کہ آپ جملہ طلباء سے بہت ہی مشفقانہ سلوک کیا کرتے تھے اور طلباء سے بڑے پیار کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔ہم چند طلباء جن میں حضرت مولانا موصوف کے بڑے صاحبزادے مکرم عطاءالرحمن صاحب طاہر بھی شامل تھے اور میرے کلاس فیلو ہونے کے علاوہ ہوٹل میں بھی ہم ایک ہی کمرے میں تھے۔(ان دنوں جامعہ احمدیہ قادیان کے محلہ دارالانوار میں منتقل ہوا تھا۔مولانا کی رہائش دارالعلوم میں تھی )۔ہم روزانہ دارالانوار سے دار العلوم صبح کی نماز کے بعد حضرت مولانا سے پڑھنے کے لئے جایا کرتے تھے اور یہ سلسلہ ایک ماہ تک جاری رہا۔سب طلباء کو استاذی المکرم اپنے گھر سے ناشتہ کرواتے اور سلوک کا انداز یہ ہوتا تھا جیسے ایک باپ اپنی اولاد سے کرتا ہے۔طلباء کی ضرورت کا اس طرح خیال رکھتے تھے کہ اپنے ذرائع سے طلباء کو گرم کوٹ وغیرہ ضروریات مہیا کروا دیتے۔ایک سال آپ ہماری کلاس کے طلباء کو ڈلہوزی پہاڑ پر گرمیوں کی تعطیلات کے ایام میں لے گئے۔ہم وہاں ایک ماہر ہے اور وہاں جامعہ احمدیہ کی تعلیم کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے پیچھے جو ان دنوں ڈلہوزی میں مقیم تھے نمازیں ادا کرنے کی بھی سعادت ملتی رہی۔اس کے علاوہ مجلس علم و عرفان میں بھی شامل ہوتے رہے۔یہ سارا انتظام آپ نے اپنے ذرائع سے کیا۔سب طلباء کو ڈلہوزی کی سیر بھی کرادی اور تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔