حیاتِ خالد — Page 741
حیات خالد 730 گلدستۂ سیرت جھجک کا مظاہرہ نہ کیا۔میرے لئے ان کی شاگردی کا زمانہ بہت ہی فضل و برکت کا دور تھا۔اس زمانہ میں میں نے ان کی کلاس میں موجودگی کو طلباء کی دینی معلومات میں اضافہ کرنے کا وسیلہ بنالیا۔وہ اس طرح سے کہ ہفتہ میں ایک شام سبق کے دوران میں آپ سے درخواست کر کے دینی مسائل پر آپ سے طلباء کو خطاب کرنے کی خواہش ظاہر کرتا جو آپ بخوشی قبول فرما لیتے اور اس طرح سے میری کلاس کو دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی اور روحانی امور میں بھی دسترس حاصل کرنے کا موقع مل جاتا۔آپ نے میٹرک پاس کرنے کے بعد جب ایف اے کا امتحان دینا تھا تو مجھے یاد ہے کہ آپ خاکسار کے مکان واقع دارالرحمت ( قادیان) میں تشریف لا کر مجھ سے انگریزی کے اسباق پڑھتے رہے۔آپ کے ساتھ ساتھ ایک وقت تک حضرت مولانا محمد یار صاحب عارف سابق مبلغ انگلستان اور حضرت شیخ عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل بھی شامل ہوتے رہے۔میں نے اپنے اس دور کے ان شاگردوں کو باوجود ان کی عظمت و وجاہت کے جس قدر مودب و ممنون پایا اس کی تفصیل بیان کرنا میرے لئے الفاظ میں ممکن نہیں۔مختصر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ استاد کے متعلق ان کے جذبات تشکر استاد کے دل میں اس کے اپنے مقام کو بلند اور ارفع بنا دیتے ہیں یہ زمانہ حضرت مولانا کے دور اول کا وقت تھا۔پھر وہ زمانہ آیا جب مجھے اپنی سکول کی ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد بطور مربی سلسلہ امریکہ جانے کا موقع ملا۔حضرت مولوی صاحب کی طبیعت میں احسان مندی اور قدر دانی کا جذبہ اس قدر وافر تھا کہ جب بھی موقع ملتا حضرت مولوی صاحب فراخ دلی سے اس کا اظہار فرماتے۔میں امریکہ جانے لگا تو حضرت مولوی صاحب ریلوے اسٹیشن پر مجھے الوداع کہنے کے لئے موجود تھے اور اس سے پہلے دن مجھے اپنے مکان پر بلا کر متعدد دوستوں کے ساتھ چائے کا خاص انتظام فرمایا اور وسیع پیمانہ پر اپنے پرانے دوست کا پرانا استاد ہونے کی نسبت سے اعزاز فرمایا۔ایسے قدر دان اور حوصلہ افزائی کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے محض اسی کے فضل سے دنیا میں آتے ہیں۔محترم صوفی بشارت الرحمن صاحب مرحوم سابق ناظر تعلیم ، صدر مجلس کار درس و تدریس پرداز ، وکیل التعلیم تحریک جدید فرماتے ہیں۔" جب میں حصول تعلیم کے لئے کالج میں گیا تو اس وقت کالج کے طلباء نے ایک تربیتی کلاس کا انعقاد کیا۔میں ۱۹۳۷ء سے لے کر ۱۹۴۳ء تک چھ سال گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھا۔گرمیوں کی چھٹیوں میں قادیان میں مسجد اقصیٰ میں اس کلاس کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔مولانا ابوالعطاء صاحب صبح سے